اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو اور نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
En
مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
اے ایمان والو! تم جب سرگوشی کرو تو یہ سرگوشیاں گناه اور ﻇلم (زیادتی) اور نافرمانیٴ پیغمبر کی نہ ہوں، بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں پر سرگوشی کرو اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے
En
9۔ اے ایمان والو! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی سے متعلق سرگوشی نہ کیا کرو، بلکہ سرگوشی کرو تو نیکی [10] اور تقویٰ کے متعلق کیا کرو۔ اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے ہاں تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔
[10] سرگوشی کی تین صورتیں اور ان کا مقام :۔
اس آیت میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے جن میں منافقین بھی شامل ہیں۔ سرگوشی، کانا پھوسی اور کھسر پھسر سب ہم معنی الفاظ ہیں۔ اور ان کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سرگوشی، بد نیتی، برے ارادوں یا کسی ناپاک سازش پر محمول ہو۔ جیسے منافق لوگ مسلمانوں کے خلاف سرگوشیاں کیا کرتے تھے۔ یہ شیطان کی انگیخت ہوتی ہے جیسا کہ اگلی آیت میں صراحت سے مذکور ہے۔ اور یہ بالاتفاق حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ سرگوشی بھلائی اور نیکی پر محمول ہو مثلاً دو لڑنے والوں کے درمیان سمجھوتہ کے لیے سرگوشی کی جائے یا جیسے سیدنا یوسفؑ نے جب اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لیا تھا تو باقی بھائیوں نے لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر بات چیت کی تھی۔ ایسی سرگوشی جائز ہی نہیں مستحسن ہے۔ بلکہ بعض اوقات واجب بھی ہو سکتی ہے۔ تیسرے ایسی سرگوشی جس کا تعلق صرف دو سرگوشی کرنے والوں سے ہی ہو دوسرے لوگوں سے نہ ہو۔ جیسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پیشتر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کی تھی۔ جس سے ایک بار تو وہ رونے لگیں اور دوسری دفعہ ہنس دیں۔ [بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب من ناجی بین الناس] ایسی سرگوشی جائز ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ سرگوشی کرنے کے بعد کچھ آداب ہیں جو درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کہیں تم صرف تین آدمی ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر کانا پھوسی نہ کریں۔ اس سے اس کو رنج ہو گا۔ البتہ اگر اور بھی آدمی موجود ہوں تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔ [بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب اذا کانوا اکثر من ثلثۃ۔۔۔] اور ان آداب کا اصل مدعا یہ ہے کہ کسی شخص کو رنج نہ پہنچے یا وہ کسی بد ظنی میں مبتلا نہ ہو جائے۔ یعنی: 1۔ اگر صرف تین آدمی ہیں۔ تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔ ہاں اگر تیسرے سے اجازت لے لیں تو پھر وہ سرگوشی کر سکتے ہیں۔ اس طرح اس کی بد ظنی کا امکان ختم ہو جائے گا۔ 2۔ اگر آدمی تین سے زیادہ ہوں تو دو آدمی کانا پھوسی کر سکتے ہیں۔ مگر ایسا نہ ہو کہ آدمی چار ہوں اور تین آدمی ایک کو چھوڑ کر کانا پھوسی میں مشغول ہو جائیں۔ وقس علی ہذا۔ 3۔ اگر آدمی زیادہ ہوں اور دو آدمی کانا پھوسی کرنے لگیں تو ان میں سے کوئی شخص مجلس میں بیٹھے ہوئے کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ کرے اور نہ اسے دیکھے۔ جس سے مشار الیہ کے دل میں خواہ مخواہ بد ظنی پیدا ہو جائے۔
سرگوشی سے منافقوں کا مقصد:۔
غرض بد ظنی پیدا کرنے اور رنج پہنچانے والی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں اس آیت کی رو سے سب حرام ہیں اور منافقوں کا تو کام ہی یہ ہوتا تھا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کے ساتھ اکٹھ ہوتا تو ناپاک قسم کی کھسر پھسر شروع کر دیتے تھے۔ مثلاً جہاد پر روانگی کے وقت یہ کھسر پھسر شروع کر دیتے کہ ”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب جہاد پر روانہ والے ان مسلمانوں میں کوئی بھی بچ کر واپس نہ آئے گا۔ معلوم نہیں یہ لوگ کون سے سنہرے خواب دیکھ رہے ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔