فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّیۡنَ مِسۡکِیۡنًا ؕ ذٰلِکَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴﴾
پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئو اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
En
جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہوا (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیئے) ۔ یہ (حکم) اس لئے (ہے) کہ تم خدا اور اسکے رسول کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
En
ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ پھر اگر وہ غلام نہ پائے [3] تو ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اور جو اس بات کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ (حکم) اس لئے ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابطے ہیں اور انکار کرنے والوں [4] کے لئے دردناک عذاب ہے
[3] ظہار کرنا گناہ کبیرہ ہے :۔
آیت نمبر 3 اور 4 میں ظھار کا کفارہ یا ایسے معاملات کا حل شرعی بتایا جا رہا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ظہار سے اگرچہ طلاق واقع نہیں ہو جاتی تاہم یہ ایک گناہ کبیرہ ہے۔ پھر کفارہ کے طور پر اس گناہ کی تین سزائیں بتا دیں۔ کہ ان میں سے جو سزا کسی کے حالات کے مطابق ہو وہ اسے دی جائے۔ ان کی ترتیب یہ ہے۔
ظہار کا کفارہ :۔
(1) ایک غلام آزاد کرنا، (2) مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا یا (3) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ ان آیات میں درج ذیل امور قابل ذکر ہیں۔
ظہار سے متعلق احکام :۔
1۔ لڑائی جھگڑا زوجین کے درمیان ہوتا ہے لیکن ظہار کے لفظ خاوند بولتا ہے۔ اس لیے سزا صرف خاوند کے لئے ہے۔ بیوی کے لیے کوئی کفارہ یا سزا نہیں۔
2۔ ان تمام سزاؤں کی نوعیت عبادات کی ہے۔ غلام آزاد کرنا اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ مالی نفلی عبادتیں ہیں۔ اور روزے رکھنا بدنی عبادت، گویا کفارہ بھی عبادات کی شکل میں تجویز ہوا ہے۔ تاکہ انسان کے نفس میں پاکیزگی اور تقویٰ پیدا ہو۔ کفارہ میں حدی جرائم کی طرح کوئی بدنی سزا نہیں ہوتی۔
3۔ یہ کفارہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے قول سے رجوع کرنا چاہے اور زوجین مل بیٹھنا چاہیں اور مرد رجوع نہ کرنا چاہے تو پھر سیدھی طرح طلاق دے دے۔ جو شرعی ہدایات کے مطابق ہو۔ ظہار تو بالکل بے ہودہ اور ہیرا پھیری کی بات ہے۔ اس سے توبہ کرے اور طلاق دے دے۔
4۔ آج کل غلامی کا رواج ختم ہو چکا ہے۔ لہٰذا آج اگر کوئی ظہار کرے تو کفارہ کی دوسری یا تیسری صورت سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہو گا۔
5۔ یہ اختیار ظہار کرنے والے کے حالات کے مطابق ہو گا۔ مثلاً ایک امیر شخص نے ظہار کیا تو اس کے لیے دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی سزا تجویز کی جائے گی۔ کیونکہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا اس کے لیے کوئی سزا نہیں۔ اسی طرح غریب کے لیے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا مشکل ہے۔ اور روزے رکھنے میں وہ کوئی سزا محسوس نہیں کرے گا۔
6۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر کسی عذر شرعی مثلاً مرض یا ضروری سفر وغیرہ کی بنا پر روزوں کے تسلسل میں انقطاع واقع ہو جائے تو وہ انقطاع شمار نہ ہو گا۔ انقطاع اسی وقت شمار ہو گا جب وہ دیدہ دانستہ بغیر کسی عذر شرعی کے روزہ چھوڑ دے۔
7۔ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے مراد دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا اس کا ہم قیمت غلہ ہے۔ جو غلہ کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ اور اس کی نقد قیمت کی صورت میں بھی۔ بعض علماء کے نزدیک ایک ہی مسکین کو ساٹھ دنوں کا غلہ یا اس کی قیمت ادا کرنے سے بھی کفارہ ادا ہو جاتا ہے۔ بہرحال اس معاملہ میں شریعت نے کفارہ ادا کرنے والے کی سہولت کو ملحوظ رکھا ہے۔
8۔ صحبت سے پہلے کفارہ کی ادائیگی لازمی ہے۔ ادائیگی سے قبل بیوی مرد پر حلال نہ ہو گی۔
2۔ ان تمام سزاؤں کی نوعیت عبادات کی ہے۔ غلام آزاد کرنا اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ مالی نفلی عبادتیں ہیں۔ اور روزے رکھنا بدنی عبادت، گویا کفارہ بھی عبادات کی شکل میں تجویز ہوا ہے۔ تاکہ انسان کے نفس میں پاکیزگی اور تقویٰ پیدا ہو۔ کفارہ میں حدی جرائم کی طرح کوئی بدنی سزا نہیں ہوتی۔
3۔ یہ کفارہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے قول سے رجوع کرنا چاہے اور زوجین مل بیٹھنا چاہیں اور مرد رجوع نہ کرنا چاہے تو پھر سیدھی طرح طلاق دے دے۔ جو شرعی ہدایات کے مطابق ہو۔ ظہار تو بالکل بے ہودہ اور ہیرا پھیری کی بات ہے۔ اس سے توبہ کرے اور طلاق دے دے۔
4۔ آج کل غلامی کا رواج ختم ہو چکا ہے۔ لہٰذا آج اگر کوئی ظہار کرے تو کفارہ کی دوسری یا تیسری صورت سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہو گا۔
5۔ یہ اختیار ظہار کرنے والے کے حالات کے مطابق ہو گا۔ مثلاً ایک امیر شخص نے ظہار کیا تو اس کے لیے دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی سزا تجویز کی جائے گی۔ کیونکہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا اس کے لیے کوئی سزا نہیں۔ اسی طرح غریب کے لیے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا مشکل ہے۔ اور روزے رکھنے میں وہ کوئی سزا محسوس نہیں کرے گا۔
6۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر کسی عذر شرعی مثلاً مرض یا ضروری سفر وغیرہ کی بنا پر روزوں کے تسلسل میں انقطاع واقع ہو جائے تو وہ انقطاع شمار نہ ہو گا۔ انقطاع اسی وقت شمار ہو گا جب وہ دیدہ دانستہ بغیر کسی عذر شرعی کے روزہ چھوڑ دے۔
7۔ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے مراد دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا اس کا ہم قیمت غلہ ہے۔ جو غلہ کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ اور اس کی نقد قیمت کی صورت میں بھی۔ بعض علماء کے نزدیک ایک ہی مسکین کو ساٹھ دنوں کا غلہ یا اس کی قیمت ادا کرنے سے بھی کفارہ ادا ہو جاتا ہے۔ بہرحال اس معاملہ میں شریعت نے کفارہ ادا کرنے والے کی سہولت کو ملحوظ رکھا ہے۔
8۔ صحبت سے پہلے کفارہ کی ادائیگی لازمی ہے۔ ادائیگی سے قبل بیوی مرد پر حلال نہ ہو گی۔
کفارہ دینے والے کے حالات ملحوظ رکھنا ضروری ہے :۔
اب خولہ بنت ثعلبہ کا قصہ یہ ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ نے اسے پڑھ کر سنائیں اور فرمایا کہ اپنے خاوند سے کہو کہ ایک غلام آزاد کرے۔ خولہ نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو نادار ہے۔ آپ نے فرمایا: اچھا: اس سے کہو: دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے۔ خولہ نے کہا: وہ تو بوڑھا و ناتواں ہے۔ اسے یہ طاقت بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ خولہ کہنے لگی۔ اسے تو اتنا بھی مقدور نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک عرق (ایک پیمانہ) کھجوریں دے کر اس کی مدد کروں گا۔ اس پر خولہ نے کہا۔ میں بھی ایک وسق کھجور دے کر اس کی مدد کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت بہتر ہے۔ جا اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ سلوک کر۔ چنانچہ خولہ نے ایسا ہی کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تیسری صورت میں، نادار کفارہ دینے والے کی صدقہ وغیرہ کی صورت میں مدد بھی کی جا سکتی ہے اور کرنا چاہیے۔
[4] ظہار کی آیات کن کن چیزوں پر ثبوت فراہم کرتی ہیں؟
یعنی اللہ کی حدود یا ضابطے یہ ہیں کہ ظہار سے طلاق واقع نہیں ہوتی، دوسرا یہ کہ ظہار کرنا کوئی ایسی معمولی بات نہیں جس پر کچھ بھی مواخذہ نہ ہو۔ بلکہ فی الواقع یہ ایک گناہ کا کام ہے۔ تیسرا یہ کہ اس گناہ کا ازالہ صرف کفارہ ادا کرنے سے ہو سکتا ہے۔ اور انکار سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کفارہ ادا کئے بغیر ہی اپنی بیوی سے صحبت شروع کر دے یا اللہ تعالیٰ کی اس وضاحت کے باوجود بھی اپنی بیوی سے صحبت کرنا حرام ہی سمجھتا رہے۔ واضح رہے کہ ان آیات سے مندرجہ ذیل باتوں کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کے وجود پر اور اس کے بندوں کے حالات سے ہر وقت مطلع ہونے پر۔
(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کا رسول ہونے پر۔
(3) قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر۔
(4) اس بات پر کہ تمام تر احکام الٰہی بندوں کے مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس قانون نے جہاں ایک طرف جاہلیت کے دستور کے مطابق جدائی سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کر دیا، وہاں اس رواج کو ایسا بے لگام بھی نہیں چھوڑا کہ جو چاہے ظہار کرتا پھرے اور اس پر کوئی پابندی نہ ہو۔ بلکہ اعتدال کی راہ اختیار کر کے ہر حال میں بندوں کے مصالح کو ملحوظ رکھا۔
(1) اللہ تعالیٰ کے وجود پر اور اس کے بندوں کے حالات سے ہر وقت مطلع ہونے پر۔
(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کا رسول ہونے پر۔
(3) قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر۔
(4) اس بات پر کہ تمام تر احکام الٰہی بندوں کے مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس قانون نے جہاں ایک طرف جاہلیت کے دستور کے مطابق جدائی سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کر دیا، وہاں اس رواج کو ایسا بے لگام بھی نہیں چھوڑا کہ جو چاہے ظہار کرتا پھرے اور اس پر کوئی پابندی نہ ہو۔ بلکہ اعتدال کی راہ اختیار کر کے ہر حال میں بندوں کے مصالح کو ملحوظ رکھا۔