تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے اور اللہ کسی تکبر کرنے والے، بہت فخر کرنے والے سے محبت نہیں رکھتا۔
En
تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو۔ اور خدا کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا
23۔ یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر [40] اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو [41] پسند نہیں کرتا
[40] مسئلہ تقدیر کی مصلحت :۔
تقدیر کے اس مسئلے سے تمہیں اس لیے مطلع کرنا ضروری ہے کہ تمہیں جو بھی دکھ پہنچتا ہے وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ لہٰذا ایسے حالات میں تمہیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے اور اگر نقصان ہو جائے تو اس کا غم نہ کرنا چاہئے۔ اور جب کوئی بھلائی پہنچے تو بھی تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ تمہاری اپنی حسن تدبیر یا تمہارے فعل کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ نے اسے تمہارے لئے مقدر کر رکھا تھا۔ لہٰذا تمہیں اس پر اترانے، پھولنے یا شیخیاں بگھارنے کے بجائے اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تقدیر کا بہانہ بناتے اور اس کا مفہوم اس مصلحت کے بالکل برعکس بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اور اپنے آپ کو تقدیر کے سامنے مجبور محض ظاہر کر کے بہانہ جوئی سے کام لیتے ہیں۔ ان کی اس بہانہ جوئی کا جواب پہلے کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔
[41] مال کے فتنہ ہونے کے مختلف پہلو :۔
کسی دنیا دار انسان کو مال و دولت مل جائے تو مال کی کثرت اس میں دو خاصیتیں پیدا کر دیتی ہے۔ ایک یہ کہ اسے دولت کا نشہ چڑھ جاتا ہے، اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہتا اور وہ اپنے آپ کو کوئی بلند تر چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور دوسری یہ کہ مال جوں جوں زیادہ ہوتا ہے تو مزید مال جمع کرنے کی ہوس اس میں اور بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ ننانوے کے چکر میں پڑ جاتا ہے اور بالخصوص اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کی جان نکل جاتی ہے۔ ہاں نام و نمود کی بات ہو تو ایسے لوگ خرچ بھی کرتے ہیں اور شیخیاں بھی بگھارتے ہیں اور اپنے اس عمل کو خوب تر سمجھتے اور دوسروں کو یہی کچھ سکھاتے اور کرنے کو کہتے ہیں۔ منافقوں میں جو لوگ مالدار تھے وہ انہیں دونوں امراض میں مبتلا تھے۔ مال کے نشہ میں مست اور جہاد کے لیے خرچ کرنے کو اپنے مال کا ضیاع تصور کرتے تھے۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو اس کا نقصان تمہیں کو ہو گا تمہارے مال خرچ کرنے سے اللہ کو تو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا اور نہ تمہارے بخل کرنے سے اس کا کچھ نقصان ہو جاتا ہے۔ البتہ تمہاری بہتری اسی بات میں ہے کہ تم ایسی باتوں سے باز آجاؤ۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔