ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحديد (57) — آیت 16

اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾
کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے اور اس حق کے لیے جھک جائیں جو نازل ہوا ہے اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنھیں ان سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔ En
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرف نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں۔ پھر ان پر زمان طویل گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں
En
کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں اور ان کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر جب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں بہت سے فاسق ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں کیا ان کے لئے ایسا وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر سے اور جو حق نازل ہوا ہے، اس سے ان کے دل پسیج [28] جائیں؟“ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے [29] اور (آج) ان میں سے اکثر فاسق ہیں
[28] پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس سورۃ کا زمانہ نزول غالباً جنگ احزاب سے بعد اور صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے۔ اس وقت تک اسلام کے غلبہ کے کئی آثار لوگوں کے سامنے آچکے تھے۔ جنگ بدر میں کافر شکست فاش سے دو چار ہو چکے تھے۔ جنگ احد میں بھی بالآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا تھا اور جنگ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے غیبی اسباب سے مسلمانوں کی مدد فرما کر کافروں کو فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان واقعات سے عام لوگ اور غیر جانبدار قبائل یہ تاثر لے رہے تھے کہ اسلام اور کفر دونوں برابر کی چوٹ ہیں اور سب اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ایسے حالات میں منافقوں کو اس آیت سے یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اسلام کی نصرت و تائید میں اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد تمہیں یہ یقین نہیں آرہا کہ جو وحی اور دعوت اللہ کی طرف سے نازل ہو رہی ہے وہ برحق اور درست ہے۔ نیز یہ کہ کافروں کا اور ان کے ساتھ ہی منافقوں کا جو انجام عنقریب سامنے آنے والا ہے کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس سے مسلمانوں کے دل دہل جائیں اور اللہ کے ذکر اور اس کے ڈر سے ان کے دل نرم پڑ جائیں۔
[29] قرآن کی وہ آیت جس نے فضیل بن عیاض کی زندگی کا رخ بدل دیا :۔
ہوتا یہ ہے کہ جب تک نبی اپنی امت میں موجود رہتا ہے۔ ایمانداروں کے دل نبی کی صحبت اور اللہ کے ذکر اور اس سے تقویٰ کی وجہ سے نرم پڑ جاتے ہیں اور ان لوگوں کے دل اور طبیعتیں نیکی میں سبقت کی طرف مائل رہتی ہیں لیکن جب نبی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی طبیعتیں اللہ کی یاد سے غافل رہنے لگتی ہیں۔ ان میں تقویٰ کی بجائے فسق اور اللہ کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کے جراثیم جنم لینے لگتے ہیں۔ یہود اور نصاریٰ دونوں پر یہ کیفیت گزر چکی تھی۔ اس آیت میں بالعموم مسلمانوں کو اور بالخصوص منافقوں کو یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ کی یاد سے غافل رہنا ایسی بیماری ہے جس سے دل سخت ہو جاتے ہیں اور ان میں فسق و فجور داخل ہونے لگتے ہیں لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اللہ کو ہر دم یاد رکھو اسی سے تم میں تقویٰ پیدا ہو گا اور تمہارے دل نرم رہ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دور تابعین میں فضیل بن عیاض ایک ڈاکو تھے۔ ایک دفعہ وہ اپنے اسی شغل یعنی ڈاکہ زنی اور لوٹ مار میں مشغول تھے کہ کسی نے بلند آواز سے یہی آیت: ﴿اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ پڑھ دی۔ اس آیت اور اس کے شیریں انداز بیان کا ان پر ایسا اثر ہوا کہ لرز گئے اسی وقت توبہ کی اور اپنا ڈاکہ زنی کا پیشہ ترک کر کے اللہ کے ذکر میں مشغول ہو گئے۔ پھر تقویٰ اختیار کر کے وہ مقام حاصل کیا کہ اس دور کے صالحین میں ان کا نام سر فہرست آتا ہے۔