ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحديد (57) — آیت 14

یُنَادُوۡنَہُمۡ اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ لٰکِنَّکُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ وَ تَرَبَّصۡتُمۡ وَ ارۡتَبۡتُمۡ وَ غَرَّتۡکُمُ الۡاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ غَرَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۱۴﴾
وہ انھیں آواز دیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے ؟وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم انتظار کرتے رہے اور تم نے شک کیا اور (جھوٹی) آرزوؤں نے تمھیں دھوکا دیا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور اس دغا باز نے تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکا دیا۔ En
تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا
En
یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے وه کہیں گے کہ ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا تھا اور انتظار میں ہی رہے اور شک و شبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے میں ہی رکھا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ منافق مومنوں کو پکار کر کہیں گے: ”کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ [23] نہ تھے؟“ (مومن) کہیں گے، کیوں نہیں، لیکن تم نے تو خود اپنے آپ کو فتنہ [24] میں ڈالا۔ اور (موقع کی) انتظار کرتے رہے اور شک [25] میں پڑے رہے اور جھوٹی آرزوئیں تمہیں دھوکہ میں ڈالے رہیں تا آنکہ اللہ کا حکم آ پہنچا [26] اور (اس وقت تک) بڑا دھوکہ باز (شیطان) اللہ کے بارے میں تمہیں دھوکا ہی دیتا رہا
[23] اس دیوار میں ایک دروازہ ہو گا اب یہاں سے منافق مومنوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ دنیا میں تو ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اور آج تم لوگ ہمیں یہاں چھوڑ کر اکیلے ہی جنت کی طرف جا رہے ہو۔ تمہیں ہم سے ایسی بے وفائی تو نہ کرنی چاہیے تھی۔
[24] مومن اس بات کا یہ جواب دیں گے کہ تم جھوٹ بکتے ہو جو یہ کہتے ہو کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اس کے بجائے اصل بات یہ تھی کہ تم لوگ موقع پرست اور مفاد پرست تھے اور اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ مومنوں اور کافروں میں سے جس کا پلڑا بھاری رہے اس کے ساتھ مل کر اپنے دنیوی مفاد حاصل کریں۔
[25] یعنی تمہارا نہ اللہ پر ایمان پختہ تھا نہ اس کے رسول پر، نہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اور نہ آخرت پر۔ جب تم دیکھتے تھے کہ حالات مسلمانوں کے حق میں ناسازگار ہیں اور کافروں کی کثرت تعداد، معاش اور سامان جنگ کی طرف دیکھتے تھے تو تمہارا ایمان متزلزل ہو جاتا تھا۔ تمہارا اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اعتماد اٹھ جاتا تھا۔ پھر تم یہ بھی سوچنے لگتے تھے کہ شاید یہ آخرت اور اپنے اعمال کی جزا و سزا والا معاملہ بھی یقینی ہے یا نہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی روش اختیار کی جائے کہ کسی فریق سے ملنا ہمارے لیے مشکل نہ ہو۔ لہٰذا تم صرف ظاہری طور پر ہمارے ساتھ لگے رہے۔ لیکن تمہاری ساری ہمدردیاں اور دلچسپیاں کافروں کے ساتھ رہیں۔
[26] اللہ کے حکم سے مراد اسلام کا مکمل غلبہ بھی ہو سکتا ہے اور موت بھی۔ یعنی جہاں تک تمہارا بس چلتا رہا تم نے اپنے اس رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ تم یہ سمجھتے رہے کہ ہمارا مسلمانوں کو اندھیرے میں رکھ کر اور انہیں دھوکا دے کر اپنے مفادات حاصل کر لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ تم خود شیطان کے ہتھے چڑھے ہوئے تھے اور مرتے دم تک اس نے تمہیں اسی دھوکہ میں مبتلا رکھا کہ اب کوئی دن میں مسلمان تباہ ہوتے ہیں اور اسلام مٹ جاتا ہے۔