ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحديد (57) — آیت 12

یَوۡمَ تَرَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ یَسۡعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ بُشۡرٰىکُمُ الۡیَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۚ۱۲﴾
جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہو گی۔ آج تمھیں ایسے باغوں کی خوش خبری ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہو، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان (کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے
En
(قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ مومن مردوں اور عورتوں کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا آج تمہیں ان جنتوں کی خوش خبری ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے۔ یہ ہے بڑی کامیابی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اس دن آپ دیکھیں گے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کا نور ان کے سامنے [18] اور دائیں جانب [19] دوڑ رہا ہو گا (اور انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں ایسے باغوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ تم اس میں ہمیشہ رہو گے، یہی بڑی کامیابی ہے
[18] نور ایمانی کا انحصار ایمان کی کمی بیشی پر :۔
اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت پیش آئے گا جب میدان محشر میں فیصلہ کے بعد مومن مردوں اور عورتوں کو جنت کا پروانہ راہداری مل جائے گا۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جنت کو جو راستہ جاتا ہے وہ جہنم سے ہو کر جاتا ہے اور ہر جنتی کو لازماً جہنم پر وارد ہونا ہو گا۔ [19: 71]
اور پل صراط سے گزرنا ہو گا اور اس راستہ میں سخت تاریکی ہو گی۔ وہاں مومنوں کے اعمال صالحہ کا نور ہی کام آئے گا۔ جس قدر کسی کا ایمان پختہ اور نیک اعمال زیادہ ہوں گے اتنا ہی اس کا نور یا روشنی بھی زیادہ ہو گی۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ مومنوں کی روشنی اتنی دور تک پہنچے گی جیسے مدینہ اور عدن کا درمیانی فاصلہ ہے۔ بعض کا نور مدینہ سے صنعاء تک کے فاصلہ تک پہنچ رہا ہو گا اور بعض ایسے بھی ہوں گے جن کی روشنی ان کے اپنے قدموں سے آگے نہیں بڑھے گی اس روشنی کی کمی بیشی کی ایک توجیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس شخص کی کوششوں سے اسلام جتنی دور تک پھیلا ہو گا اور لوگوں کو ہدایت حاصل ہوئی ہو گی اس نسبت سے اس کے نور میں کمی بیشی ہو گی۔
[19] نیک اعمال اور دائیں جانب کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اہل جنت کو اعمال نامہ بھی دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص اندھیرے میں روشنی کا کوئی آلہ مثلاً لالٹین، لیمپ یا ٹارچ عموماً اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر چلتا ہے۔ اس کی روشنی سامنے اور دائیں ہاتھ تو خوب پڑتی ہے۔ مگر بائیں ہاتھ یا پیچھے بھی روشنی پڑتی تو ہے مگر بہت کم۔ یہی صورت حال اس دن ہو گی اور آگے جو روشنی پڑے گی اس کا تعلق دل سے ہے جس قدر کسی کا دل ایمان کی پختگی اور اس کے نور سے منور ہو گا اتنی ہی زیادہ اس کے آگے روشنی ہو گی اور دائیں طرف کی روشنی کا تعلق اس کے اعمال صالحہ سے ہو گا۔