ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الواقعة (56) — آیت 75

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾
پس نہیں! میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں! En
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
En
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

75۔ میں ستاروں [35] کے محل وقوع کی قسم کھاتا ہوں
[35] ﴿مَوَاقِعُ النُّجُوْمِ کا معنی ستاروں کے گرنے کی جگہ بھی ہو سکتا ہے۔ فضائے بسیط میں بے شمار سیارے ایسے ہیں جو ہر وقت ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں اور اس کا دوسرا معنی ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ بھی اور وقت بھی۔ یعنی افق مغرب جہاں ہمیں ستارے ڈوبتے نظر آتے ہیں یا صبح کی روشنی کے نمودار ہونے کا وقت، جب ستارے غائب ہو جاتے ہیں۔ جو معنی بھی لیے جائیں اس سے مراد ستاروں کی گردش اور اپنے اپنے مدارات میں سفر کرنے کا وہ پیچیدہ اور حیران کن مربوط اور منظم نظام ہے جس میں غور و فکر کرنے سے انسان اس قادر مطلق ہستی کی حکمت اور وسعت علم تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جو اس کائنات پر کنٹرول کر رہی ہے۔