ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الواقعة (56) — آیت 73

نَحۡنُ جَعَلۡنٰہَا تَذۡکِرَۃً وَّ مَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِیۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾
ہم نے ہی اسے مسافروں کے لیے ایک نصیحت اور فائدے کی چیز بنایا ہے۔ En
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
En
ہم نے اسے سبب نصیحت اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ ہم نے اس درخت کو یاددہانی کا ذریعہ اور مسافروں [34] کے فائدہ کی چیز بنا دیا ہے
[34] ﴿مُقْوِيْنٌ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿مُقْوِيْنٌ ﴿القوٰي بمعنی بھوک اور ﴿باتَ الْقَوٰي بمعنی بھوکا رہ کر رات گزاری اور ﴿القاوية﴾ بمعنی کم بارش کا سال اور ﴿تقاوٰي بمعنی بارش کی قلت یا افراط جس سے فصل تباہ ہو جائے اور قحط نمودار ہو جائے۔ اور ﴿تقاوي﴾ قرضے وہ ہوتے ہیں جو ایسے قحط کے سال میں حکومت زمینداروں کو بالاقساط ادائیگی کی شرط پر دیتی ہے اور ﴿تقاوي﴾ بمعنی بھوکے رات بسر کرنا اور قوت لایموت بمعنی خوراک کی اتنی کم مقدار جس سے انسان بس زندہ رہ سکے اور ﴿مقوين﴾ بمعنی قوت کی احتیاج میں سفر کرتے پھرتے لوگ۔ خانہ بدوش لوگ جو رزق کی تلاش میں ادھر ادھر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ درختوں کی لکڑیوں سے عارضی مکان بھی کھڑے کر سکتے ہیں۔ ایندھن بیچ کر اپنی دوسری ضروریات بھی پوری کر سکتے ہیں۔