ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الواقعة (56) — آیت 65

لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰہُ حُطَامًا فَظَلۡتُمۡ تَفَکَّہُوۡنَ ﴿۶۵﴾
اگر ہم چاہیں تو ضرور اسے ریزہ ریزہ کر دیں، پھر تم تعجب سے باتیں بناتے رہ جاؤ۔ En
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ
En
اگر ہم چاہیں تواسے ریزه ریزه کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی ره جاؤ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ اگر ہم چاہیں تو اسے بھس بنا دیں پھر تم باتیں بناتے [31] رہ جاؤ
[31] بیج پر ممکنہ آفات :۔
اس کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً جس زمین میں بیج ڈالا گیا اس میں اللہ شور پیدا کر دے اور نسل کمزور اور زرد پیدا ہو اور پوری طرح بار آور نہ ہو یا فصل اگنے کے بعد اسے کیڑا لگ جائے یا کسی ارضی یا سماوی آفت مثلاً کہر، شدید بارش وغیرہ سے فصل کی نشو و نما رک جائے اور لہلہاتے کھیت زرد پڑ جائیں۔ تو کیا تم میں سے کسی کو یہ اختیار ہے کہ فصل کو ان مصیبتوں سے بچا سکے؟ اور اگر تم خود بھی اللہ تعالیٰ کی ہی مہربانی سے پیدا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی سے تمہیں کھانے کو ملتا ہے تو پھر اس کے سامنے تمہاری اکڑ اور سرتابی کا مطلب؟ اس صورت میں تم باتیں ہی بناتے رہ جاتے ہو کہ ہمارا تو بیج بھی ضائع ہو گیا اور محنت بھی ضائع ہوئی اور آئندہ کھانے کو بھی کچھ نہ ملا تو ہم تو مارے گئے۔ یہ بات تمہیں پھر بھی نصیب نہیں ہوتی کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسے اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ سمجھو۔