ان دو آیات میں اولین اور آخرین کی تعیین میں اختلاف کی بنا پر ان آیات کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اولین سے مراد سابقہ امتوں کے لوگ لیے جائیں اور آخرین سے مراد اس امت کے۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ سابقہ انبیاء پر ایمان لانے والوں، حق کے معرکہ میں دوسروں سے آگے نکل جانے والوں اور خیر و بھلائی کے کاموں میں سبقت کرنے والوں کی تعداد اس امت کے سابقین کی تعداد سے بہت زیادہ ہو گی۔ دوسرے یہ کہ اولین اور آخرین سے مراد ہماری ہی امت مسلمہ کے لوگ ہوں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ اس کے اولین یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین، تبع تابعین۔ میں سے سابقین کی تعداد آخرین سے بہت زیادہ ہو گی۔ تیسرے یہ کہ اولین اور آخرین سے مراد ہر نبی کی امت کے اولین اور آخرین لیے جائیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک اصل بن جائے گا۔ یعنی ہر نبی کی امت کے اولین میں سے سابقین کی تعداد آخرین میں سابقین کی تعداد سے زیادہ ہوا کرتی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔