ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 76

مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّ عَبۡقَرِیٍّ حِسَانٍ ﴿ۚ۷۶﴾
وہ ایسے قالینوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہیں جو سبز ہیں اور نادر، نفیس ہیں۔ En
سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
En
سبز مسندوں اور عمده فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ جنتی لوگ سبز اور نفیس و نادر [46] قالینوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔
[46] ﴿عبقري﴾ کا مفہوم :۔
﴿عَبْقَرِيٍّ عرب کے دور جاہلیت کے انسانوں میں جنوں کے دار السلطنت کا نام عبقر تھا جہاں صرف جن اور پریاں ہی رہتے تھے جسے ہم اردو میں پرستان بھی کہتے ہیں یعنی پریوں کے رہنے کی جگہ۔ پھر لفظ ﴿عبقري﴾ کا اطلاق ہر نفیس اور نادر چیز پر ہونے لگا تو یا وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ دنیا کی عام چیزیں نہیں کر سکتیں۔ پھر اس لفظ کا اطلاق ایسے آدمی پر بھی ہونے لگا جو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہو۔ اسی لیے اہل عرب کو جنت کے سر و سامان کی غیر معمولی نفاست اور خوبی کا تصور دلانے کے لیے یہاں ﴿عبقري﴾ کا لفظ آیا ہے۔