ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾
اور آسمان، اس نے اسے اونچا اٹھایا اور اس نے ترازو رکھی۔ En
اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی
En
اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اس نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو [6] بنا دی۔
[6] میزان کا مفہوم :۔
اس آیت میں میزان سے اکثر مفسرین نے میزان عدل مراد لی ہے۔ جس کے سہارے یہ زمین و آسمان قائم ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ اس صورت میں ان کے عدل سے مراد وہ توازن و تناسب ہے۔ جو ہر سیارے میں قوت جاذبہ یعنی کشش ﴿ثقل﴾ اور مرکز گریز قوت کے درمیان رکھ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہر سیارے کا درمیانی فاصلہ، ان کی رفتار اور ان میں باہمی تعلق بھی شامل ہے اور یہ اتنا لطیف اور خفیف تعلق ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اور اس توازن و تناسب کو میزان کے لفظ سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کو سمجھانے کے لیے اس لفظ کے مفہوم کے قریب تر کوئی لفظ نہ تھا۔