ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 54

مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی فُرُشٍۭ بَطَآئِنُہَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ ؕ وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾
ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ، جن کے استر موٹے ریشم کے ہیں اور دونوں باغوں کا پھل قریب ہے۔ En
(اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استرا طلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں
En
جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور ان دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہوں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ جنتی لوگ ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں باغوں [35] کے پکے ہوئے پھل لٹک رہے ہوں گے
[35] ان آیات میں اہل جنت پر اللہ کے انعامات کا ذکر ہے یعنی جن بچھونوں پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھا کریں گے ان کا استر تو موٹے ریشم کا ہو گا اور ابرہ تو بہرحال اس سے بھی بہتر ہی کوئی کپڑا ہو گا جس کا وجود غالباً اس دنیا میں نہیں پایا جاتا۔ یہ بچھونے انہیں باغوں میں ہوں گے جو ان کی اپنی ذاتی قیام گاہیں ہوں گی اور ان باغوں کے پھل اتنے جھکے ہوئے ہوں گے کہ جب چاہیں اور جونسا پھل چاہیں اسی وقت ہاتھ سے پکڑ کر توڑ کر کھا سکیں۔