ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 39

فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾
پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھا جائے گا اور نہ کسی جنّ سے۔ En
اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے
En
اس دن کسی انسان اورکسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت [28] نہ پوچھا جائے گا (کہ آیا اس نے یہ گناہ کیا تھا یا نہیں؟)
[28] قیامت کے دن مختلف مواقع پر مجرموں سے مختلف قسم کا سلوک ہو گا۔ ایک موقع پر ان سے ٹھیک طرح باز پرس ہو گی جیسے فرمایا: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ [92:15] اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب مجرم اپنے گناہوں سے مکر جائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ مجرموں سے نہیں پوچھے گا۔ بلکہ ان کی زبانوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں اور جلدوں کو بولنے کا حکم دے گا۔ وہ ان اثرات کو بیان کریں گے جو اس جرم کے دوران ان پر مرتب ہوئے تھے۔ اس طرح ان کے خلاف شہادت قائم ہو جائے گی۔