[1] یعنی یہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ہی کا نتیجہ ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن جیسی عظیم الشان اور بلند پایہ کتاب سکھا دی جو پوری نوع انسانی کی ہدایت کا ذریعہ ہے اور اسی کی ہدایت پر عمل کرنے سے انسان کی دنیا بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو قرآن سکھایا ہے کسی اور نے نہیں سکھایا جیسا کہ کفار مکہ کا قرآن کے متعلق ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اسے کوئی عجمی سکھاتا ہے۔ پھر یہ شخص اسے اللہ کی طرف منسوب کر کے ہمیں سنا دیتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔