50۔ اور ہمارا حکم بس ایک ہی دفعہ کہنے پر اتنی جلدی ظہور پذیر [35] ہو جاتا ہے جیسے آنکھ کی جھپک
[35] یعنی جس طرح جنین کی رحم مادر میں پرورش پانے کی مدت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اگرچہ اس میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے تاہم ہر ایک جنین کی مدت الگ الگ اللہ کے ہاں مقرر ہے۔ اسی طرح ہر ایک کی موت کی مدت بھی مقرر ہے اور قیامت کے قائم ہونے کی بھی۔ اگرچہ اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں جان نہیں سکتا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب وہ مدت پوری ہو چکتی ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق وہ فوراً ظہور پذیر ہو جاتی ہے اور اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی۔ قیامت کا بھی یہی حال ہے جب اللہ کا حکم ہو گا پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ واقع ہو جائے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔