[25] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو آیات ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئیں۔ ابو جہل سے پہلے ولید بن مغیرہ ہی سرداران قریش کا رئیس تھا اور اس کے سمجھ دار ہونے میں کچھ شک نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے کافی حد تک متاثر ہو چکا تھا اور قریب تھا کہ ایمان لے آئے۔ اس کے ایک مشرک دوست کو جب اس صورت حال کا پتہ چلا تو اسے کہنے لگا: جس آخرت سے تم ڈرتے ہو اس کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ اگر تمہیں عذاب ہوا تو تمہاری سزا میں اپنے سر لے لوں گا بشرطیکہ تم مجھے اتنا اتنا مال دے دو۔ چنانچہ ولید بن مغیرہ اس کے چکمے میں آ گیا۔ اس کی بات کو قبول کرتے ہوئے طے شدہ مال کی ایک قسط اسے ادا بھی کر دی لیکن بعد میں اس نے کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر مزید مال دینے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔