ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النجم (53) — آیت 18

لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی ﴿۱۸﴾
بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ En
انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں
En
یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ بلا شبہ اس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں [11] دیکھیں
[11] جبرئیلؑ بھی اللہ کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں :۔
اس آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی کو دیکھا تھا۔ کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الواقع اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی اہم اور فضیلت والی بات تھی کہ اس کا ذکر صراحت کے ساتھ ہونا ضروری تھا کیونکہ سیدنا موسیٰؑ کو بھی ﴿لَنْ تَرَانِيْ کا جواب ملا تھا۔ یہ بڑی بڑی نشانیاں کیا تھیں؟ اس کی تفصیل اللہ ہی جانتا ہے۔ سیدنا ابراہیمؑ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ﴿مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ دکھائی تھیں۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پر انبیاء علیہم السلام کی آنکھوں سے غیب کے کچھ پردے ہٹا دیئے جاتے ہیں جیسے آپ کو جنت اور دوزخ کے بعض مناظر دکھا دیئے گئے تھے۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾