ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الطور (52) — آیت 38

اَمۡ لَہُمۡ سُلَّمٌ یَّسۡتَمِعُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَلۡیَاۡتِ مُسۡتَمِعُہُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ۳۸﴾
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر وہ اچھی طرح سن لیتے ہیں؟تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔ En
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں۔ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے
En
یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے واﻻ کوئی روشن دلیل پیش کرے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ (عالم بالا کی) باتیں سن آتے ہیں؟ (اگر ایسی بات ہو) تو ان میں سے کوئی سننے والا [32] صریح سند کے ساتھ وہ بات پیش کرے
[32] یعنی عالم بالا سے کوئی ایسی بات سن آئے ہیں کہ مکہ میں جو نبی پیدا ہوا ہے اسے ہم نے تو نہیں بھیجا تھا۔ اس نے از خود ہی کچھ کلام تالیف کر کے لوگوں سے کہہ رکھا ہے کہ یہ کلام مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے؟ اگر کوئی ایسی بات ہے تو اس کا ثبوت پیش کریں۔ پھر جب رسالت کی تردید کے لیے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تو وہ اس قدر ہٹ دھرمی اور سختی سے اس کا انکار کیسے کر رہے ہیں؟