ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الذاريات (51) — آیت 48

وَ الۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰہَا فَنِعۡمَ الۡمٰہِدُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور زمین، ہم نے اسے بچھا دیا، سو( ہم) اچھے بچھا نے والے ہیں۔ En
اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں
En
اور زمین کو ہم نے فرش بنا دیاہے پس ہم بہت ہی اچھے بچھانے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور ہم بڑے اچھے بچھانے والے [42] ہیں۔
[42] زمین گہوارہ کیسے ہے؟
یعنی سطح زمین کو ہموار بنا دیا تاکہ لوگ اور دوسرے جانور آسانی سے اس پر چل پھر سکیں۔ پھر سطح زمین پر ایک زرخیز چھلکا چڑھا دیا جس میں روئیدگی کی قوت رکھ دی تاکہ زمین پر رہنے والوں کو غذا مہیا ہو سکے۔ زمین کو سورج سے اتنی دور رکھا کہ زمین پر بسنے والے جاندار اس کی گرمی سے جل کر تباہ نہ ہو جائیں۔ اور نہ ہی اتنا زیادہ دور کر دیا کہ وہ سردی سے ٹھٹھر کر مر جائیں۔ نیز انسان کی جملہ ضروریات خورد و نوش، لباس، مسکن اور مدفن سب چیزوں کو زمین سے وابستہ کر دیا۔ اس طرح انسان اس قابل ہو گیا کہ کائنات کی اکثر چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی کے ہر میدان میں ترقی کی منزلیں طے کر سکے اور قیامت تک اس زمین پر آباد رہ سکے۔