ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الذاريات (51) — آیت 46

وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿٪۴۶﴾
اور اس سے پہلے نوح کی قوم کو، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔ En
اور اس سے پہلے (ہم) نوح کی قوم کو (ہلاک کرچکے تھے) بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
En
اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہو چکا تھا) وه بھی بڑے نافرمان لوگ تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ اور اس سے پہلے ہم نے قوم نوح (کو ہلاک کیا تھا) بلا شبہ وہ نافرمان [40] لوگ تھے۔
[40] ذکر قوم نوح :۔
سیدنا نوحؑ اور ان کی قوم کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ صرف ایک آیت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اس میں اس قوم کے جرم اور اس کی سزا دونوں کا ذکر آیا ہے۔ سابقہ آیات میں چند تاریخی شواہد پیش کر کے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ مکافات عمل کا قانون اس کائنات میں جاری و ساری ہے۔
سب قوموں کے ایک جیسے جرم اور انجام سے سبق :۔
جس قوم نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کی اور اکڑ دکھائی اس کا انجام یہی ہوا کہ وہ تباہ و برباد ہوکے رہی۔ اور یہ عذاب محض ان کی گرفتاری کے حکم کا درجہ رکھتا تھا تاکہ وہ مزید جرائم نہ کر سکیں اور دوسرے لوگ ان کے مظالم سے بچ جائیں۔ رہی ان کے جرائم کی اصل سزا تو وہ قیامت کے دن مقدمہ، شہادتوں اور ثبوت جرم کے بعد دی جائے گی۔ اور یہ تاریخی واقعات، ان کا سبب اور ان کا نتیجہ سب کچھ کفار کو سنائے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود ہی سمجھ جائیں کہ اگر وہ لوگ بھی حق کی مخالفت سے باز نہ آئے تو ان کا بھی ایسا ہی انجام ہو سکتا ہے۔