ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الذاريات (51) — آیت 29

فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ فِیۡ صَرَّۃٍ فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَ قَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی، پس اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور اس نے کہا بوڑھی بانجھ! En
تو ابراہیمؑ کی بیوی چلاّتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ
En
پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت میں آکر اپنے منھ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بوڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ پھر اس کی بیوی بھی چلاتی ہوئی آگے بڑھی اس نے اپنا منہ پیٹا اور کہنے لگی: ایک تو بڑھیا [23] اور دوسرے بانجھ؟
[23] سیدنا ابراہیم کو اسحاق کی خوشخبری :۔
جب فرشتوں نے سیدنا اسحٰق کی خوشخبری دی تو ان کا خوف جاتا رہا۔ البتہ ان کی بیوی آگے بڑھی اور تعجب سے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارتے ہوئے کہا یہ کیسے ہو گا؟ میں تو بانجھ ہوں، جوانی میں بھی اولاد نہ ہوئی اور اب تو بوڑھی بھی ہو چکی ہوں۔ اب یہ کیسے ہو گی؟