ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الذاريات (51) — آیت 26

فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
پس چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا، پس (بھناہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔ En
تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے
En
پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ پھر وہ چپکے [21] سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے
[21] یعنی فرشتوں سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کھانا کھائیں گے؟ کیونکہ مہمان عموماً اس کے جواب میں یہی کہہ دیتے ہیں کہ تکلیف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چپکے سے اندر آگئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کر کے اسے گھی میں تل کر یا بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے۔