ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ق (50) — آیت 45

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِجَبَّارٍ ۟ فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵﴾
ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں اور توان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں، سو قرآن کے ساتھ اس شخص کو نصیحت کر جو میرے عذاب کے وعدے سے ڈرتا ہے۔ En
یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو
En
یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم بخوبی جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں، تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید (ڈرانے کے وعدوں) سے ڈرتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہم اسے خوب جانتے [52] ہیں۔ آپ ان پر جبر [53] تو کر نہیں سکتے لہذا اس قرآن کے ذریعہ ہر اس شخص کو نصیحت کیجئے جو میرے وعدہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[52] اس جملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلی بھی ہے اور کفار مکہ کے لئے وعید اور دھمکی بھی۔
[53] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری نہیں کہ زور اور زبردستی سے کسی کو ایمان لانے پر مجبور کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام اتنا ہی ہے کہ لوگوں کو یہ قرآن سنا سنا کر نصیحت کیا کیجئے پھر جس کے دل میں ذرا بھی اللہ کا خوف ہو گا وہ تو یقیناً اس نصیحت کو قبول کر لے گا اور جو لوگ قرآن سننا بھی گوارا نہ کریں تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ذمہ داری نہیں۔