ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ق (50) — آیت 44

یَوۡمَ تَشَقَّقُ الۡاَرۡضُ عَنۡہُمۡ سِرَاعًا ؕ ذٰلِکَ حَشۡرٌ عَلَیۡنَا یَسِیۡرٌ ﴿۴۴﴾
جس دن زمین ان سے پھٹے گی، اس حال میں کہ وہ تیز دوڑنے والے ہوں گے، یہ ایسا اکٹھا کرنا ہے جو ہمارے لیے نہایت آسان ہے ۔ En
اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے
En
جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ جس دن زمین ان پر سے پھٹ [50] جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ اس طرح جمع کرنا ہمارے لیے بہت آسان [51] ہے۔
[50] جس طرح زمین پھٹ جاتی ہے اور پودے کی کونپل زمین کو چیر کر اور پھاڑ کر زمین سے باہر نکل آتی ہے۔ اسی طرح اس دن زمین پھٹ جائے گی اور پودوں کی طرح انسان زمین سے اگتے اور باہر نکلتے چلے آئیں گے۔ ان کی فوراً نشو و نما ہوتی چلی جائے گی پھر وہ اضطراراً اللہ کے دربار کی طرف دوڑ پڑیں گے جس میں ان کی اپنی مرضی کو کچھ دخل نہ ہو گا۔
[51] نباتات اور انسان کی پیدائش میں مماثلت کے پہلو :۔
اللہ تعالیٰ نے بے شمار مقامات پر نباتات کے زمین سے نکلنے اور مردہ انسانوں کے زمین سے نکلنے کو ایک دوسرے کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اور جہاں تک میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ نباتات کے اگنے کی نسبت انسان کا زمین سے اگ آنا یا نکل آنا زیادہ آسان ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نباتات کا اگنا ہر وقت ہمارے مشاہدہ میں آتا رہتا ہے۔ لہٰذا ہم اس میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے اور مردوں کا اگنا چونکہ ہمارے مشاہدہ میں نہیں آیا لہٰذا کافر اس کا انکار کر دیتے ہیں اور غور و فکر کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ گویا دونوں مقامات پر اصل کمی غور و فکر کی ہے۔ اب میں اس بات کو ایک مثال سے سمجھاؤں گا۔ فرض کیجئے ایک باغ میں یا ایک ہی قطعہ زمین میں چند میٹھے پھلوں مثلاً انار، آم، سیب کے درخت یا انگور کی بیلیں ہیں اور اسی قطعہ زمین میں چند کڑوے درخت یا بیلیں مثلاً نیم کا درخت یا کریلے کی بیل یا تھوہر کا پودا ہے۔ اب بارش اور مناسب آب و ہوا ملنے پر ہر درخت اور پودا اپنے بیج سے تعلق رکھنے والے اجزاء ہی زمین سے کھینچے گا اور زمین ویسے ہی اجزاء اسے مہیا کرے گی دوسرے نہیں۔ مثلاً یہ نہیں ہو سکتا کہ انار کے درخت میں انگور کے اجزاء اور شیرینی مل جائے، یا انار کے درخت میں کریلے کی کڑواہٹ کا بھی کوئی جز شامل ہو جائے۔ نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ انگور کی بیل میں کچھ تھوڑے سے کریلے کے اجزاء اور کرواہٹ بھی شامل ہو جائے۔ یہی صورت انسان کی دوبارہ پیدائش یا زمین سے اگ آنے یا نکل آنے کی ہے۔ اس کا اصل بیج یعنی روح تو اللہ کے پاس پہلے ہی موجود ہے۔ اور مادی بیج بھی زمین میں محفوظ رہتا ہے اسے زمین کھا نہیں سکتی اور وہ عجب الذنب کا حصہ وہ ہے جو انسان کا مادی بیج ہے اور یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اب ہر انسان کا بیج زمین سے وہی اجزاء اپنی طرف کھینچے گا اور زمین اسے وہی اجزاء مہیا کرے گی جو اس کے بیج سے تعلق رکھتے ہیں زید کے جسم کے اجزاء بکر کے جسم میں داخل نہیں ہو سکتے اور نہ بکر کے اجزاء عمر کے جسم میں جا سکتے ہیں۔ اور انسانوں کا زمین سے اگنا نباتات سے بھی آسان اس لحاظ سے ہے کہ نباتات کی تقریباً پندرہ لاکھ انواع آج تک دریافت ہو چکی ہیں لیکن قیامت کو صرف دو انواع جن اور انسان زمین سے اگیں گی۔ اِلا یہ کہ کوئی اور چیز بھی اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہو۔