ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ق (50) — آیت 38

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ ﴿۳۸﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔ En
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا۔ اور ہم کو ذرا تکان نہیں ہوئی
En
یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ ہم نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں تھکاوٹ [44] محسوس تک نہ ہوئی
[44] یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر الزام، ساتویں دن آرام کیا :۔
یہ یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر من گھڑت الزام ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔ اور بائیبل میں اب بھی کتاب پیدائش [2: 2] میں ایسی عبارت موجود ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے ہی جیسا سمجھ لیا کہ جیسے ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی تھک گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی یا کسی اور چیز کی مثل قرار دینا ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس آیت میں ان کے اسی الزام کی تردید کی گئی ہے۔