ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ق (50) — آیت 37

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلۡبٌ اَوۡ اَلۡقَی السَّمۡعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ ﴿۳۷﴾
بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے یقینا نصیحت ہے جس کا کوئی دل ہو، یا کان لگائے، اس حال میں کہ وہ (دل سے) حاضر ہو۔ En
جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے
En
اس میں ہر صاحب دل کے لئے عبرت ہے اور اس کے لئے جو دل سے متوجہ ہو کر کان لگائے اور وه حاضر ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ اس (تاریخ) میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو دل رکھتا ہو یا حضور قلب کے ساتھ متوجہ ہو کر بات [43] سنے
[43] یعنی ہدایت اور نصیحت کے حصول کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے یا تو وہ خود اتنی عقل اور سمجھ رکھتا ہو کہ اقوام سابقہ کے حالات سن کر ان سے کوئی صحیح نتیجہ اخذ کر سکے یا اگر کوئی دوسرا اسے سمجھائے تو پوری توجہ سے سننے کے لئے تیار ہو۔ اور جس شخص میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں اس کا کسی واقعہ سے سبق حاصل کرنا محال ہے۔