31۔ اور جنت کو پرہیزگاروں کے قریب کر دیا [36] جائے گا وہ کچھ دور نہ ہو گی
[36] جنت اور دوزخ کا باہمی مکالمہ :۔
جن پرہیزگاروں کے حق میں جنت کا فیصلہ ہو جائے گا وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کو زینت اور گونا گوں نعمتوں سے آراستہ و پیراستہ دیکھ لیں گے اور اس کی خوشگوار خوشبوئیں محسوس کرنے لگیں گے اگر فاصلہ زیادہ بھی ہو گا تو اسے سمٹا کر جنت کو ان کے قریب کر دیا جائے گا۔ جنت میں کیسے لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ میں کیسے؟ یہ مندرجہ ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے: سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ آپس میں تکرار کرنے لگیں۔ دوزخ نے کہا کہ مجھ میں وہ لوگ آئیں گے جو متکبر اور جابر ہیں اور جنت کہے گی کہ مجھ میں تو کمزور اور ناتواں قسم کے لوگ داخل ہوں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا:”تو میری رحمت ہے، میں تیری وجہ سے اپنے جن بندوں پر چاہوں گا رحمت کروں گا“ اور دوزخ سے فرمایا:”تو میرا عذاب ہے، میں تیری وجہ سے اپنے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا“ اور ان میں سے ہر ایک کو بھر دیا جائے گا۔ دوزخ تو کسی طرح نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس پر رکھ دے گا۔ تب وہ کہے گی کہ بس بس، اور بھر کر سمٹ جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق پر ظلم نہیں کرے گا۔ رہی جنت تو اسے پر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اور خلقت پیدا کر دے گا“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔