30۔ اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے: ”کیا [35] تو بھر گئی؟“ تو وہ کہے گی: ”کیا کچھ اور بھی ہے؟“
[35] قیامت کو جہنم کا کلام کرنا :۔
جہنم اگر زبان حال کی بجائے زبان قال سے بھی اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب دے تو اس میں بھی حیرت کی کوئی بات نہیں۔ اللہ جس چیز کو چاہے قوت گویائی عطا کر سکتا ہے۔ جہنم کے اس جواب سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ جہنم اس قدر بڑی اور وسیع ہو گی کہ تمام مستحقین جہنم کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد بھی اس میں جگہ بچ رہے گی خواہ یہ دوزخی انسانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوں اور شیطانوں سے۔ اور یہی بات درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے: سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھ دے گا اس وقت وہ کہے گی، بس بس (میں بھر گئی)“ [بخاري۔ كتاب التفسير] اور دوسرے یہ کہ جہنم اس دن اس قدر غیظ و غضب میں بھڑک رہی ہو گی کہ ”اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر وہ جواب دے گی کہ جتنے مجھ میں داخل ہونے کے مستحق ہیں سب کو لے آؤ میں آج کسی کو چھوڑوں گی نہیں“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔