ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ق (50) — آیت 19

وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾
اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آئے گی۔ یہ ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا۔ En
اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا
En
اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اور یہ حقیقت کھولنے کے لئے موت کی بے ہوشی [22] آپہنچی، یہی وہ بات ہے جس سے تو (اے انسان) [23] گریز کرتا رہا
[22] موت پر سب حقائق کا انکشاف :۔
اس کے دو مطلب ہیں یعنی موت، اس کی بے ہوشیاں اور سختیاں تو وہ ان سب حقیقتوں کو ساتھ ہی لے آئیں جن کی انبیائے کرام علیہم السلام اطلاع دیتے رہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے معلوم ہو جائے گا کہ جس محاسبہ اور برے انجام سے وہ ڈرایا کرتے تھے اس کا آغاز ہو گیا ہے۔ موت کا فرشتہ، دیکھتے ہی اس پر سب پیش آنے والی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔
[23] حاد بمعنی سیدھے راستے سے پہلو تہی کرنا، کنی کترانا، سمت بدل لینا اور دور بھاگنا ہے۔ سیدھا راستہ پیغمبروں نے یہ بتایا تھا کہ تمہیں مر کر دوبارہ جی اٹھنا ہے اور تمہارا محاسبہ ہونے والا ہے۔ تو اس بارے میں مشکوک ضرور تھا۔ تیرے نزدیک دونوں احتمال موجود تھے۔ لیکن تیرا نفس یہی چاہتا تھا کہ تیرا محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہٰذا تو طرح طرح کے اعتراض کر کے اپنے آپ کو مطمئن کر لیتا تھا اور سیدھے راستہ سے بہرحال بچنا چاہتا تھا۔