ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ق (50) — آیت 15

اَفَعَیِیۡنَا بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ؕ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ لَبۡسٍ مِّنۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾
تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں؟ بلکہ وہ ایک نئے پیدا کیے جانے کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔ En
کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں
En
کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے ہیں؟ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ از سر نو پیدائش کے متعلق شک [17] میں پڑے ہوئے ہیں
[17] اللہ تعالیٰ کو کسی انسان یا کسی جاندار مخلوق کی مثل قرار دینا ہی بنیادی غلطی ہے جس سے کئی طرح کی گمراہیوں کی راہیں کھلتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اتنی بڑی کائنات پیدا کرنے کے بعد تھک چکا ہے۔ لہٰذا وہ آئندہ دوسری بار کیسے اس کائنات کو پیدا کرے گا۔ اس کا ایک جواب تو قرآن میں مختلف مقامات پر یہ دیا گیا ہے کہ تمہارے نزدیک بھی ایک چیز کو دوسری بار بنانا پہلی بار سے آسان تر ہوتا ہے تو پھر اللہ کے لئے دوسری بار پیدا کرنا کیسے مشکل ہو گا؟ اور یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اصل بات یہ نہیں۔ وہ ہمیں تھکا ماندہ اور عاجز نہیں سمجھتے بلکہ ان کی عقل یہ بات قبول نہیں کرتی کہ انہیں دوبارہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس سلسلہ میں مشکوک ہی رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دونوں احتمال موجود رہتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی نفسانی خواہش یہی تقاضا کرتی ہے کہ محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہٰذا وہ اس پر جم جاتے ہیں۔