ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 92

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۹۲﴾
اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور بچ جاؤ، پھر اگر تم پھر جائو تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ En
اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے
En
اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔ اگر اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور (ان چیزوں سے) َبچو۔ [137۔ 1] پھر اگر تم نے حکم نہ مانا تو جان لو کہ ہمارے رسول [138] پر تو صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے
[137۔1] یعنی ان چیزوں سے بچو جن کی حرمت سابقہ آیات میں مذکور ہوئی ہے مثلاً شراب، جوئے، آستانوں کے تقدس اور تیروں کے ذریعہ فال لینے سے بچو اور اگر اس حکم کو عموم پر محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سب برے کاموں سے بچو یا اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتے رہو۔
[138] اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ کی اطاعت کا طریق کار بھی رسول اللہ ہی کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے تاہم رسول کی اطاعت اپنی الگ مستقل حیثیت بھی رکھتی ہے۔ بالفاظ دیگر کتاب اللہ اور سنت رسول دونوں کی اتباع واجب ہے اور قرآن کی رو سے ان دونوں کے واجب الاتباع ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اس مقام پر یہ آیت لانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی چیز کے فوائد اور نقصانات کا احاطہ نہ کرسکو تو تمہارے لیے بہترین روش یہی ہے کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے جاؤ۔