شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو۔
En
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے
شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ
En
91۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی [137] اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟
[137] شراب کس طرح باہمی عداوت اور بغض کا سبب بنتی ہے اس کے لیے مندرجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ 1۔ سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ہمیں جو غنیمت کا مال ملا اس میں سے مجھے ایک جوان اونٹنی ملی جس میں رسول اللہ کا بھی حصہ تھا۔ اور ایک جوان اونٹنی آپ نے مجھے عنایت فرمائی تھی۔ میں ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری آدمی کے دروازے پر باندھا کرتا تھا۔ میرا کام یہ تھا کہ ان دونوں اونٹنیوں پر اذخر (گھاس) لاد کر لاؤں اور اس کو بیچوں۔ میرے ساتھ اس کام میں بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا۔ میرا سیدہ فاطمہ ؓ (بنت رسول) سے نکاح ہونے والا تھا اور میں چاہتا تھا کہ اس آمدنی سے ولیمہ کروں۔ ایک دن سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب (آپ کے چچا) اسی گھر میں بیٹھے شراب پی رہے تھے اور ایک مغنیہ گانا گا رہی تھی۔ اس مغنیہ نے یہ مصرعہ گایا۔ الا یا حمزۃ للشرف النواء (اٹھو حمزہ فربہ جوان اونٹنیاں) شراب اور جوا باہمی عداوت کا باعث کیسے بنتے ہیں؟ یہ مصرعہ سنتے ہی سیدنا حمزہ ؓ تلوار لے کر ان اونٹنیوں کی طرف لپکے اور ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ پھاڑ کر ان کے کلیجے نکال لیے۔ سیدنا علی ؓ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ منظر دیکھا تو سخت گھبرا گیا اور اسی وقت رسول اللہ کے پاس آیا اور آپ کو سارا قصہ سنایا۔ آپ کے پاس اس وقت زید بن حارثہ ؓ بیٹھے تھے۔ چناچہ ہم تینوں روانہ ہوئے اور سیدنا حمزہ ؓ کے پاس آئے۔ آپ سیدنا حمزہ ؓ سے ناراض ہوئے مگر حمزہ نے (جو نشہ میں دھت تھے) آنکھ اٹھائی اور کہا: تم ہو کیا، تم لوگ میرے باپ دادا کے غلام ہی تو ہو۔ یہ صورتحال دیکھ کر رسول اللہ پچھلے پاؤں واپس لوٹ آئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ [بخاري۔ كتاب المساقاة۔ باب بيع الحطب والكلائ] 2۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں مہاجرین و انصار کی ایک مجلس میں گیا وہ کہنے لگے، آؤ تمہیں کھلائیں اور شراب پلائیں اور یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے چناچہ میں ان کے ہاں ایک باغ میں گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے پاس ایک اونٹ کی بھنی ہوئی سری اور شراب کا ایک مشکیزہ رکھا ہوا ہے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ کھایا اور پیا۔ پھر میں نے ان سے مہاجرین و انصار کا ذکر کیا اور کہا کہ مہاجرین انصار سے اچھے ہیں (یہ سن کر) ایک آدمی نے سری کا ایک جبڑا جو مجھے مارا تو میری ناک کو زخمی کردیا اور چیر دیا۔ میں رسول اللہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی۔ تو اللہ عزوجل نے میرے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اِنَّمَاالْخَمْرُوَالْمَيْسِرُ﴾ الا یہ [مسلم۔ كتاب الفضائل۔ باب فى فضل سعد بن ابي وقاص] اور جوئے کا معاملہ بعض دفعہ شراب سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ہارا ہوا فریق جب اپنا کثیر مال و دولت حتیٰ کہ بعض دفعہ اپنی بیوی تک بھی ہار بیٹھتا ہے تو دنیا اس کے آگے اندھیر بن جاتی ہے اور اب اس میں جو عداوت پڑتی ہے وہ دیوانہ وار ہوتی ہے جو بہت سے دوسرے جرائم کا بھی سبب بنتی ہے۔ یہ تو شراب اور جوئے کے ظاہری اثرات ہیں اور باطنی اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں لوگوں کو اللہ کی یاد سے غافل کردیتی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔