کہہ دے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔
En
کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے
کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راه سے ہٹ گئے ہیں
En
77۔ آپ ان سے کہئے: اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے پیچھے نہ چلو جو پہلے ہی گمراہ ہیں اور بہت لوگوں کو گمراہ کرچکے ہیں [123] اور سیدھی راہ سے بھٹک چکے ہیں
[123] فلسفہ گمراہی ؟
یہ لوگ وہی یونانی فلاسفر ہیں جن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر عیسائیوں کے علماء و مشائخ نے چوتھی صدی عیسوی میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا۔ پھر حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس عقیدہ کو فروغ حاصل ہوگیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاسفر قسم کے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مسلمانوں میں غلو کی مثالوں کے لیے [ديكهئے سورة فرقان كا حاشيه نمبر 2] اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ [مسلم۔ كتاب العلم۔ باب النهي عن اتباع متشابه القرآن]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔