65۔ اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ[110] اختیار کر لیتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں زائل کر کے انہیں نعمتوں والے باغات میں داخل کرتے
[110] یعنی ان کی بھلائی اس بات میں تھی کہ ایسی شرارتیں اور فتنہ و فساد بپا کرنے والے کام چھوڑ کر ایمان لے آتے تو انہیں دوہرا اجر ملتا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ ”اہل کتاب سے جو شخص ایمان لائے اس کو دوہرا اجر ملے گا ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کا اور دوسرا مجھ پر اور قرآن پر ایمان لانے کا۔“ [بخاری۔ کتاب العتق۔ باب، فضل من ادب جاریتہ و علمھا]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔