کہہ دے اے اہل کتاب! تم ہم سے اس کے سوا کس چیز کا انتقام لیتے ہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو اس سے پہلے نازل کیا گیا اور یہ کہ تمھارے اکثر نافرمان ہیں۔
En
کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ ہم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں
آپ کہہ دیجیئے اے یہودیوں اور نصرانیو! تم ہم سے صرف اس وجہ سے دشمنیاں کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ایمان ﻻئے ہیں اور اس لئے بھی کہ تم میں اکثر فاسق ہیں
En
59۔ آپ یہود سے کہئے: ”تمہیں ہم سے کیا بیر ہے سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں اور اس پر بھی جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو ہم سے پہلے [101] نازل کیا گیا تھا“ اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں
[101] چاہئے تو یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں سے محبت رکھتے:۔
یہود کو مسلمانوں سے اور پیغمبر اسلام سے اصل میں تو یہ بیر تھا کہ نبی آخر الزماں ان یہود میں سے ہی کیوں مبعوث نہیں ہوا۔ یہ بات وہ علی الاعلان تو کہہ نہیں سکتے تھے اور اس کے بجائے اپنے دل کی جلن اور بھڑاس نکالنے کے لیے پیغمبر اسلام کو طرح طرح سے مطعون کرتے اور انہیں دکھ پہنچاتے رہتے تھے۔ ان کی اصل تکلیف کا بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر جواب دیا ہے کہ نبوت کے تم اجارہ دار نہیں ہو کہ جتنی بھی بد عہدیاں تم کرتے جاؤ نبوت بہرحال تمہارے ہی خاندان میں رہے۔ نبوت تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے مناسب سمجھتا ہے دے دیتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرماتے ہیں کہ ان یہود سے بھلا پوچھو تو کہ آخر ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے جو مستقل طور پر ہم سے عداوت پر اتر آئے ہو۔ ہم تو تورات پر بھی ایمان لاتے ہیں اور انجیل پر بھی اور تمام انبیاء پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ اس لحاظ سے چاہیے تو یہ تھا کہ ہم تم سے عداوت رکھتے کیونکہ تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو اور نہ مجھ پر۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔