ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 56

وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿٪۵۶﴾
اور جو کوئی اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو دوست بنائے جو ایمان لائے ہیں تو یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو غالب ہیں۔ En
اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے
En
اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وه یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ اور جو شخص اللہ کو، اس کے رسول اور مومنوں کو دوست بنائے (وہ یقین رکھے کہ) اللہ کی جماعت [99] ہی غالب ہو کر رہے گی
[99] غلبہ صرف سچے مومنوں کو ہو گا:۔
یعنی مسلمانوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان کے حقیقی خیر خواہ صرف وہ مسلمان ہی ہو سکتے ہیں جو سچے مسلمان ہیں۔ فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کی صورت حال یہ تھی کہ کفار کے مقابلہ میں تعداد میں کم تھے۔ ان کے معاشی حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ فتح خیبر میں اموال غنیمت میں بہت سے کھجوروں کے درخت مسلمانوں کے حصہ میں آئے تو یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کو سیر ہو کر کھانے کو کھجوریں ملیں اور مہاجروں نے انصار کے وہ کھجوروں کے درخت واپس کیے جن میں وہ محنت کرتے تھے اور عوضانہ کے طور پر نصف پیداوار لیا کرتے تھے۔ سیاسی حالات بھی کچھ ایسے تھے کہ تمام اہل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اسلام کو غلبہ نصیب ہوتا ہے یا کفر غالب آتا ہے؟ یہود، مشرکین، عیسائی، اور دیگر قبائل عرب سب نے مل کر مسلمانوں کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بطور تسلی یہ یقین دلا رہے ہیں کہ کفار سے دوستانہ مراسم رکھنے سے پوری طرح اجتناب کرو اور دوستی اور محبت صرف ان لوگوں سے رکھو جو اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے احکام بجا لانے والے سچے مسلمان ہیں اور کامیابی اور غلبہ یقیناً تمہیں ہی حاصل ہو گا۔