ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 36

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لِیَفۡتَدُوۡا بِہٖ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡہُمۡ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۳۶﴾
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، اگر ان کے پاس زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو، تاکہ وہ اس کے ساتھ قیامت کے دن کے عذاب سے فدیہ دے دیں تو ان سے قبول نہ کیا جائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ En
جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تاکہ قیامت کے روز عذاب (سے رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا
En
یقین مانو کہ کافروں کے لئے اگر وه سب کچھ ہو جو ساری زمین میں ہے بلکہ اسی کے مثل اور بھی ہو اور وه اس سب کو قیامت کے دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں دینا چاہیں تو بھی ناممکن ہے کہ ان کا فدیہ قبول کرلیا جائے، ان کے لئے تو درد ناک عذاب ہی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ جو لوگ کافر ہیں اگر زمین میں موجود سارا مال و دولت ان کی ملکیت ہو بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو اور وہ چاہیں کہ یہ سب کچھ دے دلا کر قیامت کے دن کے عذاب سے چھوٹ [70] جائیں تو بھی ان سے یہ فدیہ قبول نہ کیا جائے گا اور انہیں دکھ دینے والا عذاب ہو گا
[70] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جس دوزخی کو سب سے ہلکا عذاب ہو گا اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا ”اگر تیرے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اس کے برابر کوئی چیز ہو تو اپنے چھٹکارے کے لیے دے دو گے؟“ وہ کہے گا ”ہاں۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”جب تو انسانی قالب میں تھا اس وقت میں نے تجھ سے اس سے بہت ہلکی چیز مانگی تھی کہ تو میرے ساتھ شرک نہ کرے مگر تو نے اس بات کو تسلیم نہ کیا“ (اور شرک کرتا رہا)
[بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب صفۃ الجنۃ والنار]