ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 34

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہِمۡ ۚ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۳۴﴾
مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پائو تو جان لو کہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ [67] (انہیں یہ سزائیں نہیں دی جائیں گی) تمہیں علم ہونا چاہئے کہ اللہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
[67] اسلام اور توبہ سے سابقہ گناہوں کی معافی:۔
اس کی بھی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کوئی شخص حالت کفر میں فساد فی الارض کرتا رہا پھر مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آگیا اور اپنی سب سابقہ عادات ترک کر دیں تو اس سے سابقہ گناہوں پر مواخذہ نہ ہو گا کیونکہ اسلام لانا ہی ایسا عمل ہے جو اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام لا کر بھی فساد کا مجرم رہا لیکن بعد میں اس نے توبہ کر لی اور امن پسند اور مطیع قانون بن کر زندگی گزارنے لگا۔ تو اب اس کے سابقہ گناہوں کا سراغ لگا کر اسے سزا نہیں دی جائے گی اس سے سرکاری جرائم تو معاف ہو جائیں گے لیکن بندوں کے جو حقوق اس نے غصب کیے ہیں ان کی تلافی بہرحال اس کے ذمہ رہے گی۔ خواہ ان کی ادائیگی کرے یا معاف کروا لے۔