ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پائوں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں، یا انھیں اس سر زمین سے نکال دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
En
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
En
33۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے [66] اور زمین میں فساد بپا کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں ان کی سزا تو یہی ہو سکتی ہے کہ انہیں اذیت کے ساتھ قتل کیا جائے یا سولی پر لٹکایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔ ان کے لیے یہ ذلت تو دنیا میں ہے اور آخرت میں انہیں بہت بڑا عذاب ہو گا
[66] اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کی صورتیں اور سزائیں:۔
اس آیت میں اللہ اور رسول سے جنگ سے مراد عموماً حرابہ یعنی ڈکیتی یا راہزنی سمجھا جاتا ہے۔ پھر اس آیت میں چار قسم کی سزاؤں کو جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے اس طرح متعلق کیا جاتا ہے کہ: (1) اگر مجرم نے قتل تو کر دیا ہو مگر مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا اور (2) اگر قتل بھی کر دیا ہو اور مال بھی لوٹ لیا ہو تو اسے سولی پر لٹکایا جائے گا۔ اور (3) اگر صرف مال ہی چھینا ہو قتل نہ کیا ہو تو اس کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں کاٹے جائیں گے اور (4) اگر ابھی قتل بھی نہ کیا اور مال بھی چھیننے سے پہلے گرفتار ہو جائے تو اسے جلا وطن کیا جائے گا۔ نیز قاضی جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ان سزاؤں میں سے کسی دو کو اکٹھا بھی کر سکتا ہے اور کسی ایک میں کمی بیشی بھی کر سکتا ہے۔ مگر اس آیت کے الفاظ میں عموم ہے چنانچہ محدثین اسی آیت کے تحت عکل اور عرینہ کے واقعہ کو درج کرتے ہیں۔ یہ حدیث درج ذیل ہے:
قصہ عکل اور عرینہ:۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ ”عکل اور عرینہ (قبیلوں) کے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں آئے اور اسلام کا کلمہ پڑھنے لگے۔ انہوں نے کہا۔ یا رسول اللہ! ہم گوجر لوگ ہیں کسان نہیں۔ انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اونٹ اور ایک چرواہا ان کے ساتھ کیا اور کہا کہ تم لوگ (جنگل میں) چلے جاؤ۔ ان اونٹوں کا دودھ اور بول پیتے رہو۔ وہ حرہ کے پاس اقامت پذیر ہوئے اور اس علاج سے وہ خوب موٹے تازے ہو گئے۔ پھر ان کی نیت میں فتور آگیا اور اسلام سے مرتد ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے (یسار) کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر اسے کئی طرح کی تکلیفیں پہنچا کر مار ڈالا اور اونٹ بھگا کر چلتے بنے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے آدمی روانہ کیے۔ جب وہ گرفتار ہو کر آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور حرہ کے ایک کونے میں پھینک دیئے گئے اور وہ اسی حال میں مر گئے۔“ وہ پانی مانگتے تھے لیکن کوئی پانی نہ دیتا تھا۔ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ انہوں نے چوری کی، خون کیا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کیا۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قصۃ عکل و عرینۃ نیز کتاب التفسیر۔ زیر آیت مذکورہ۔ نیز کتاب الوضوء باب ابو ال الابل] اس واقعہ میں محض ڈکیتی کی ہی واردات نہیں بلکہ مکر و فریب سے لوٹ مار، قتل اور ارتداد بھی شامل ہے اور یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ اور فساد فی الارض کے ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں اسلام کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈہ، مجرمانہ سازشیں، اسلامی حکومت سے غداری اور بغاوت یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ اور فساد فی الارض کے ضمن میں تو آسکتے ہیں مگر ڈکیتی کے ضمن میں نہیں آتے۔ لہٰذا اس آیت کے مفہوم کو اپنے وسیع مفہوم پر ہی محمول کرنا چاہیے اور قاضی ہر جرم کی نوعیت کے مطابق ان سزاؤں میں کمی بیشی کر سکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔