ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 116

وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ؃ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۱۱۶﴾
اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے بنتا ہی نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں، اگر میں نے یہ بات کہی تھی تو یقینا تو نے اسے جان لیا، تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے، یقینا تو ہی سب چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ En
اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے
En
اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوه اللہ کے معبود قرار دے لو! عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تو تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں، مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں، اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو، تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے واﻻ تو ہی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

116۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ”اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ [166] کو الٰہ بنا لو۔ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے: ”اے اللہ تو پاک ہے، میں [167] ایسی بات کیونکر کہہ سکتا ہوں جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو تجھے ضرور اس کا علم ہوتا۔ کیونکہ جو کچھ میرے دل میں ہے وہ تو تو جانتا ہے لیکن جو تیرے دل میں ہے وہ میں نہیں جان سکتا۔ تو تو چھپی ہوئی باتوں کو خوب جاننے والا ہے
[166] مریم کی خدائی کی آغاز کب ہوا ؟
سیدہ مریمؑ کو خدائی مقام عطا کرنا اور اس کی پوجا پاٹ کا عقیدہ، عقیدہ تثلیث سے بھی بعد کی پیداوار ہے۔ عقیدہ تثلیث میں خدا یہ تھے۔ اللہ، عیسیٰ اور روح القدس اور یہ عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں سرکاری طور پر رائج ہوا۔ جبکہ سیدہ مریمؑ کے خدا ہونے کا عقیدہ پانچویں صدی عیسوی کی ایجاد ہے۔ سیدہ مریم کو مادر خدا ہونے کے لقب سے نوازا گیا اور یہ عقیدہ اتنا عام ہوا کہ پہلے تین خداؤں پر چھا گیا۔ سیدہ مریم کو دیوی کا درجہ دے کر ان کے مجسمے اور تصویریں بنائی گئیں جو آج تک عیسائیوں کے گرجوں کی زینت بنی ہوئی ہیں اور عیسائی حضرات اس کے آگے سر نیاز خم کرتے ہیں۔ عیسائی حکومتوں کے قومی جھنڈے پر سیدہ مریم کی تصویر بنائی جاتی۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو ہرقل شاہ روم تھا اس کے جھنڈے پر بھی یہ تصویر موجود تھی اور جنگ کے دوران اسی کے وسیلہ سے فتح و نصرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں۔
[167] قیامت کے دن سیدنا عیسیٰ ؑ سے ان کی الوہیت کے متعلق تین سوال :۔
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کو مذکورہ بالا احسانات یاد دلانے کے بعد ان سے یہ پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے بجائے مجھے اور میری ماں کو الٰہ بنا لینا اور اپنی تمام حاجات ہم سے طلب کرنا۔ کیا میرے احسانات کا یہی بدلہ تھا؟ عیسیٰ ؑ نہایت عاجزی سے جواب دیں گے کہ یا اللہ میں ایسی بات کیوں کر کہہ سکتا تھا جو میرے لیے سزاوار ہی نہ تھی علاوہ ازیں تو تو چھپی اور علانیہ سب باتوں کو خوب جانتا ہے اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو یقیناً تیرے علم میں ہوتی۔ واضح رہے کہ قیامت کے دن کا یہ مکالمہ اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہو جائے بلکہ یہ سیدنا عیسیٰ ؑ کے ان پیرو کاروں کی تہدید اور سرزنش کے لئے بیان کیا جا رہا ہے جنہوں نے آپ کے بعد انہیں اور ان کی والدہ کو الٰہ بنا لیا تھا تاکہ ان کے خلاف ان کے رسول ہی کی شہادت قائم ہو جائے جس کی وہ پرستش کرتے رہے۔