ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 114

قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾
عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتار، جو ہمارے پہلوں اور ہمارے پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق دے اور تو سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔ En
(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے
En
عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی کہ اے اللہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرما! کہ وه ہمارے لئے یعنی ہم میں جو اول ہیں اور جو بعد کے ہیں سب کے لئے ایک خوشی کی بات ہو جائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو جائے اور تو ہم کو رزق عطا فرما دے اور تو سب عطا کرنے والوں سے اچھا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

114۔ چنانچہ عیسیٰ نے دعا کی: ”اے اللہ! ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نعمت نازل فرما جو ہمارے [164] پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے خوشی کا موقع ہو اور تیری طرف سے معجزہ ہو۔ تو تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے“
[164] لیکن حواری سیدنا عیسیٰ ؑ کے سمجھانے پر بھی اپنے مطالبہ سے باز نہ آئے۔ آخر عیسیٰ ؑ نے اپنے پروردگار کے حضور ان لوگوں کا یہ مطالبہ پیش کر دیا اور دعا کی کہ ان لوگوں کے لیے غیب سے رزق عطا فرما، جو سب اگلوں پچھلوں کے لیے ایک یادگار خوشی کا دن قرار پائے۔ اور یہ ایسا معجزہ ہوگا جسے سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔