ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 112

اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتارے؟ اس نے کہا: اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ En
(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو
En
وه وقت یاد کے قابل ہے جب کہ حواریوں نے عرض کیا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان (دسترخوان) نازل فرما دے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

112۔ اور جب حواریوں [161] نے عیسیٰ ابن مریم سے کہا: عیسیٰ! کیا تمہارا [162] پروردگار یہ کر سکتا ہے کہ آسمان سے ہم پر خوان نعمت نازل کرے؟“ عیسیٰ نے کہا: ”اگر تم ایمان لے آئے ہو [163] تو اللہ سے ڈرو (اور ایسے سوال نہ کرو)
[161] یہ مکالمہ روز قیامت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ اس دنیا کا اور عیسیٰؑ کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جسے موقعہ کی مناسبت سے اور جملہ معترضہ کے طور پر یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔
[162] حواریوں کا خوان نعمت کا مطالبہ:۔
حواری جو اسلام لا چکے تھے وہ سیدنا عیسیٰؑ سے یہ پوچھنے لگے کہ کیا تمہارے پروردگار میں اتنی قدرت ہے کہ ہم پر آسمان سے تیار شدہ کھانا نازل کرے اور اپنے اس مطالبہ کی انہوں نے تین وجوہ بتائیں۔ ایک یہ کہ ہم فکر معاش کے دھندوں سے آزاد ہو کر یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کر سکیں۔ دوسرے یہ کہ ہمیں یہ یقین حاصل ہو جائے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل حقیقت ہے اور اللہ واقعی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور تیسرے یہ کہ جس دن اس دسترخوان کا نزول ہو ہم اس دن خوشی کا جشن اور عید منائیں اور آئندہ بھی اس دن عید مناتے رہیں۔
عیسوی عقائد ما بعد کی پیداوار ہیں:۔
حواریوں کے اس مطالبہ سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ عیسیٰؑ کے متبعین آپ کو الٰہ یا اللہ یا ابن اللہ یا تین خداؤں میں سے ایک خدا نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں محض اللہ کا بندہ اور اس کا رسول سمجھتے تھے ورنہ ان کے مطالبہ کا انداز یہ ہوتا کہ ”کیا تم میں یہ قدرت ہے کہ ہمارے لیے آسمان سے دسترخوان اتار کر دکھاؤ۔“
[163] عیسیٰؑ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا امتحان نہ لو۔ اس سے ڈرتے رہو اور اس کے فرمانبردار بن کر رہو۔ اور فرمانبردار کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آقا کا امتحان لینا شروع کر دے۔