اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ، انھوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم فرماں بردار ہیں۔
En
اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں
اور جب کہ میں نے حواریین کو حکم دیا کہ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان ﻻؤ، انہوں نے کہا کہ ہم ایمان ﻻئے اور آپ شاہد رہیئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں
En
111۔ اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں۔ تب وہ حضرت عیسیٰ سے کہنے لگے: ہم ایمان لاتے ہیں اور آپ گواہ رہیے کہ ہم حکم ماننے والے [160] ہیں۔
[160] عیسائیوں کے مختلف نام حواری کون تھے؟
یہ حواری ہی در اصل سیدنا عیسیٰؑ کی امت تھے جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمان کہا۔ عیسائی یا ناصری یا مسیحی نہیں کہا۔ یہ الفاظ بہت بعد کی پیداوار ہیں۔ اور ان کیلئے یہ نام ان کے دشمنوں یعنی یہود نے ان کیلئے تجویز کیے تھے۔ عیسیٰؑ ناصرہ بستی میں پیدا ہوئے اور یہ بستی فلسطین کے ضلع گلیل میں واقع تھی۔ اس لحاظ سے یہود انہیں ناصری یا گلیلی بدعتی فرقہ کہتے تھے اور مسیحی بھی دشمنوں کا رکھا ہوا نام تھا جسے بعد میں عیسائیوں نے نہ صرف گوارا کر لیا بلکہ بعد میں اس نسبت پر فخر کرنے لگے اور آج تک مسیحی کہلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مسلمان یا انصار یا نصاریٰ کے ناموں سے ذکر کیا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔