اللہ نے نہ کوئی کان پھٹی اونٹنی مقرر فرمائی ہے اور نہ کوئی سانڈ چُھٹی ہوئی اور نہ کوئی اوپر تلے بچے دینے والی مادہ اور نہ کوئی بچوں کا باپ اونٹ اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔
En
خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے
اللہ تعالیٰ نے نہ بحیره کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو لیکن جو لوگ کافر ہیں وه اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہیں اور اکثر کافر عقل نہیں رکھتے
En
103۔ اللہ تعالیٰ نے نہ بحیرہ کو کوئی چیز بنایا ہے نہ سائبہ کو، نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو۔ بلکہ یہ کافروں نے بنائے اور یہ جھوٹی باتیں بنا کر اللہ کے ذمہ لگا دیں [151] اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں (جو ان پر عمل کرتے ہیں)
[151] بحیرہ سائبہ وصیلہ حام کی رسوم :۔
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ بحیرہ وہ دودھ دینے والا جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام پر روک دیا جائے کہ کوئی اس کا دودھ نہ دوہے۔ سائبہ وہ جانور ہے جسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس پر کوئی نہ بوجھ لادتا نہ سواری کرتا (یعنی سانڈ) وصیلہ وہ اونٹنی ہے جو پہلی بار بھی مادہ جنے اور دوسری بار بھی ایسی اونٹنی کو بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حام وہ نر اونٹ ہے جس کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں۔ اسے بھی بتوں کے نام پر بطور سانڈ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ آپ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتا پھرتا ہے۔ سانڈ کی رسم سب سے پہلے اسی نے نکالی تھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] جس عمرو بن عامر خزاعی کا نام اس حدیث میں آیا ہے ایک دوسری روایت میں اس کا نام عمرو بن لحی خزاعی بھی مذکور ہے۔ یہ شخص آپ کی بعثت سے تقریباً تین سو سال پہلے مکہ کا فرمانروا بن گیا تھا۔ اس نے دین ابراہیمی میں بہت سی خرافات شامل کردیں۔ بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال کردیا۔ مکہ مکرمہ میں بت پرستی کو بھی اسی نے رواج دیا تھا۔ اور ہوتا یہ ہے کہ امراء و سلاطین یا بڑے لوگ بد رسمیں ایجاد کرتے ہیں اور ان کے زیر لوگ انہیں قبول اور پسند کرنے لگتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہی بد رسوم دین کا حصہ سمجھی جانے لگتی ہیں۔ مزید ستم ظریفی یہ تھی کہ ایسی مشرکانہ رسوم کی ایجاد تو ان کے بڑے بزرگ کرتے تھے مگر ان کے پچھلے اسے اللہ سے منسوب کردیتے کہ اللہ نے ایسا حکم دیا ہے اور جہلاء جن کی ہر معاشرہ میں عموماً اکثریت ہوتی ہے ان کے اس افتراء کو تسلیم کرلیتے تھے اس طرح ایسی رسوم رواج پا جاتی تھیں۔ اسی بات کی تردید میں اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔