ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 101

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَکُمۡ تَسُؤۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡہَا حِیۡنَ یُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَکُمۡ ؕ عَفَا اللّٰہُ عَنۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۰۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔ En
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
En
اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ﻇاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اور اگر تم زمانہٴ نزول قرآن میں ان باتوں کو پوچھو گے تو تم پر ﻇاہر کردی جائیں گی سواﻻت گزشتہ اللہ نے معاف کردیئے اور اللہ بڑی مغفرت واﻻ بڑے حلم واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ اے ایمان والو! ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار [149] ہوں اور اگر تم کوئی بات اس وقت پوچھتے ہو جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کردی جائے گی۔ اب تک جو ہوچکا اس سے اللہ نے درگزر کردیا ہے۔ وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے
[149] یعنی ایسے سوال رسول اللہ سے نہ کیا کرو جن میں نہ تمہارا کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ دنیوی کیونکہ خواہ مخواہ سوال پوچھنے سے انسان کو نقصان ہی ہوتا ہے یا اس پر کوئی پابندی عائد ہوجاتی ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
کثرت سوال کی ممانعت :۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں نے آپ سے ایسی باتیں پوچھیں کہ آپ کو برا معلوم ہوا۔ جب بہت سوال جواب ہوئے تو آپ کو غصہ آگیا۔ آپ نے فرمایا اب جو چاہو پوچھتے جاؤ۔ ایک شخص (عبداللہ بن حذافہ، جسے لوگ متہم کرتے تھے) نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر دوسرا شخص (سعد بن سالم) کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ فرمایا تیرا باپ سالم ہے شیبہ کا غلام۔ جب سیدنا عمر نے آپ کے چہرہ مبارک کے غصہ کو دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں تب یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب العلم۔ باب الغضب فى الموعظة والتعليم اذا راي مايكره]
2۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: میرا باپ کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا دوزخ میں [بخاري۔ كتاب الاعتصام۔ باب مايكره من كثرة السوال]
3۔ سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بڑا قصور وار وہ مسلمان ہے جو ایک بات پوچھے جو حرام نہ ہو لیکن اس کے پوچھنے کی وجہ سے حرام ہوجائے [حواله ايضاً]
4۔ آپ نے منع فرمایا: بےفائدہ بک بک کرنے، زیادہ سوال کرنے، مال و دولت ضائع کرنے، ماؤں کو ستانے، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے، دوسروں کا حق دبانے سے۔ [بحواله ايضاً]
5۔ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ چپ رہے۔ سائل نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا نہیں۔ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج واجب ہوجاتا (اور تم نباہ نہ سکتے) اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی [ترمذي۔ ابو اب التفسير]
6۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ جو میں چھوڑوں یعنی اس کا ذکر نہ کروں تم بھی اس کا ذکر نہ کرو۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی بنا پر تباہ ہوگئے۔ [مسلم۔ كتاب الفضائل۔ باب توقيره و ترك اكثار سواله ممالا ضرورة اليه۔۔ الخ]
7۔ سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس کام سے میں تمہیں منع کروں اس سے باز رہو اور جس کام کا حکم دوں اسے جہاں تک ہو سکے بجا لاؤ کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے پیغمبروں سے اختلاف کرنے کی وجہ سے تباہ ہوگئے [مسلم حواله ايضاً]
آپ نے فرمایا اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو (ٹھیک طرح سے بجا لاؤ) اور کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کے پاس نہ پھٹکو، کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے اس کو بھول لاحق ہو لہذا انکی کرید نہ کرو۔ [بيهقي بحواله الموافقات للشاطبي اردو ترجمه ج 1 ص 291]