اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔
En
مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ
En
6۔ اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نا دانستہ کسی قوم [7] کا نقصان کر بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔
[7] خبر کی تحقیق کی ضرورت اس صورت میں ہے جب خبر دینے والے کا کردار پوری طرح معلوم نہ ہو :۔
بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ قبیلہ بنی مصطلق جب مسلمان ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہؓ کو ان سے زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا۔ ولید بن عقبہ کے قبیلہ اور بنی مصطلق میں پہلے سے دشمنی چلی آرہی تھی۔ جب ولید بن عقبہ ان کے ہاں گئے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور واپس آکر آپ سے کہہ دیا کہ وہ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں۔ بلکہ وہ تو مجھے بھی قتل کر دینا چاہتے تھے۔ بعض لوگوں نے یہ رائے دی کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے ان پر چڑھائی کرنا چاہئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں متأمل تھے۔ اسی دوران بنی مصطلق کا سردار حارث بن ضرار (ام المومنین سیدنا جویریہ کا والد) اتفاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئے۔ تو انہوں نے بتایا کہ ولید بن عقبہؓ تو ہمارے ہاں گئے ہی نہیں تو ان کے قتل کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ ہم مسلمان ہیں اور زکوٰۃ دینے کو تیار ہیں۔ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ہمیں یہ روایت درست تسلیم کرنے میں تأمل ہے۔ کیونکہ آیت میں فاسق کا لفظ آیا ہے تو کیا ولید بن عقبہ فاسق (جس کا اگر نرم سے نرم زبان میں بھی ترجمہ کیا جائے تو ناقابل اعتماد آدمی ہی ہو سکتا ہے) تھے؟ اور اگر ایسی ہی بات تھی تو آپ انہیں زکوٰۃ کا محصل بنا کر کیسے بھیج سکتے تھے؟ لہٰذا اگر اس آیت اور اس واقعہ میں نسبت قائم نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ نیز اس واقعہ کے بغیر بھی اس آیت کا مفہوم صاف سمجھ میں آرہا ہے۔ کیونکہ اکثر تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کی ابتدا جھوٹی خبروں اور بے بنیاد افواہوں سے ہوتی ہے۔ اور جو لوگ جھوٹی خبر دیں، یا ان کی بلا تحقیق تشہیر کریں وہ فاسق ہیں۔ سچے مومن ایسے کام نہیں کر سکتے۔ لہٰذا جس شخص کی ذات پر اس کے سچا اور راست باز ہونے کا پورا اعتماد ہو اس کی خبر کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ ناواقف ہوں اور ان پر اعتماد کرنے کے ذرائع موجود نہ ہوں۔ ان کی خبر کو تحقیق کے بغیر تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو بعض دفعہ انسان ایسے فتنوں میں پڑ جاتا ہے۔ جن پر بعد میں پچھتانا بھی پڑتا ہے۔ اور نقصان بھی بہت ہو جاتا ہے اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔