5۔ اگر یہ لوگ صبر کرتے تا آنکہ آپ [5] ان کی طرف نکلتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ اور اللہ تعالیٰ معاف [6] کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
[5] گھر سے بلانے میں ادب کے تقاضے، نبی سے انداز گفتگو شائستہ ہونا چاہئے :۔
بنو تمیم کے کچھ لوگ عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے۔ اور زور سے چلانے لگے: ”یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! باہر ہمارے پاس آئیے۔ ہماری بڑی اچھی شہرت ہے اور ہماری بڑائی بڑی ہے۔“ ان کے پکارنے کے انداز سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ بدو، غیر مہذب اور اجڈ قسم کے جنگلی لوگ تھے۔ جنہیں نہ گھر سے بلانے کا سلیقہ آتا تھا اور نہ گفتگو کرنے کا وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو ہی بہت کچھ سمجھتے تھے۔ غالباً یہ لوگ مسلمان ہو چکے تھے اور اپنے قبیلے کے لئے ایک سردار کی تقرری کی درخواست لے کر آئے تھے۔ جیسا کہ اسی سورۃ کے حاشیہ نمبر 2 میں درج شدہ حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ پھر یہ بات صرف انہی لوگوں پر ہی موقوف نہ تھی۔ اکثر بدو لوگ اسی بھونڈے انداز میں آپ کو گھر سے بلاتے اور گفتگو کرتے تھے اور آپ اپنی طبعی شرم و حیا کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے تھے۔ ایسے ناشائستہ، ان گھڑ اور بے وقوف قسم کے انسانوں کو اس آیت کے ذریعہ تنبیہ کی گئی ہے کہ جب وہ رسول سے مخاطب ہوں تو اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ جس سے وہ بات کرنا چاہتے ہیں وہ ایک عام آدمی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا رسول اور اس کا نمائندہ ہے۔ جس کی شان دنیا کے افسروں اور بادشاہوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ اگر تم اس کی شان میں بے ادبی یا گستاخی کرو تو تمہیں اپنے ایمان ہی کی خیر منانی پڑے۔ لہٰذا تم لوگوں کے لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے بلانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حجرہ کے باہر کھڑے ہو کر اندر اطلاع بھجواؤ یا مہذب طریقے سے آواز دو۔ پھر کچھ انتظار کرو۔ ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے کام میں مصروف ہوں۔ پھر جب وہ باہر آئیں تو جو کہنا ہو مہذب طریقہ سے بات کرو۔ [6] یعنی اگر تم آئندہ ان آداب کو ملحوظ رکھو گے تو اللہ تمہاری سابقہ خطائیں معاف فرما دے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔