ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحجرات (49) — آیت 2

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔ En
اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو
En
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند [2] نہ کرو اور نہ ہی اس کے سامنے اس طرح اونچی آواز سے بولو جیسے تم ایک دوسرے سے بولتے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال [3] برباد ہو جائیں اور تمہیں اس کی خبر بھی نہ ہو
[2] یعنی جب تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہو تو ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھو۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آوازیں بلند کرنے کی بنا پر دو نیک ترین آدمی تباہ ہونے کو تھے یعنی سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ جبکہ بنی تمیم کا ایک وفد (9ھ میں) آپ کے پاس آیا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کا کوئی سردار مقرر فرما دیں) ان دونوں میں سے ایک نے اقرع بن حابس کی (سرداری) کا مشورہ دیا جو بنی مجاشع (بنو تمیم کی ایک شاخ) میں سے تھا اور دوسرے نے کسی دوسرے (قعقاع بن معبد) کے متعلق مشورہ دیا۔ نافع بن عمر کہتے ہیں کہ مجھے اس کا نام یاد نہیں رہا۔ اس پر سیدنا ابو بکر صدیقؓ سیدنا عمرؓ سے کہنے لگے کہ: ”آپ تو مجھ سے اختلاف ہی کرنا چاہتے ہیں“ سیدنا عمرؓ نے کہا: ”میں آپ سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا“ (بلکہ یہ مصلحت کا تقاضا ہے) اس معاملہ میں دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب سے یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمرؓ اتنی آہستہ بات کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے پوچھنے کی ضرورت پیش آتی۔ لیکن انہوں نے یہ بات اپنے نانا (سیدنا ابو بکرؓ کے متعلق نقل نہیں کی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
یہ ادب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے لئے سکھلایا گیا اور اس کے مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین یا وہ لوگ تھے جو آپ کے زمانہ میں موجود تھے اور یہ ادب اس لئے سکھایا گیا تھا کہ لوگ آپ کو ایک عام اور معمولی آدمی نہ سمجھیں بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ وہ اللہ کے رسول کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ تاہم اس حکم کا اطلاق ایسے مواقع پر بھی ہوتا ہے۔ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو رہا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم سنایا جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کی جائیں۔
[3] آواز مقابلتاً پست ہونی چاہئے :۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر نبی سے بات کرنا ہو تو بھی نبی کی آواز سے تمہاری آواز بلند نہ ہونا چاہئے۔ نیز مسجد نبوی میں کوئی بات عام آواز سے زیادہ اونچی آواز سے نہ کی جائے۔ اس بے ادبی کی تمہیں یہ سزا مل سکتی ہے کہ تمہارے نیک اعمال برباد کر دیئے جائیں۔ اس آیت کا جو اثر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر ہوا وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے:
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس (بن شماس) کو (کئی روز تک اپنی صحبت میں) نہ دیکھا۔ ایک شخص (سعد بن معاذ) کہنے لگے: گگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کا حال معلوم کر کے آپ کو بتاؤں گا“ چنانچہ وہ گئے تو ثابتؓ کو اپنے گھر سر جھکائے دیکھا اور پوچھا: ”کیا صورت حال ہے؟“ ثابتؓ کہنے لگے: ”برا حال ہے میری تو آواز ہی نبی سے بلند ہوتی تھی میرے تو اعمال اکارت گئے اور اہل دوزخ سے ہوا“ سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا کہ ”وہ تو یہ کچھ بتاتا ہے“ موسیٰ بن انس کہتے ہیں۔ پھر ایسا ہوا کہ سعدؓ بن معاذ ایک بڑی بشارت لے کر دوسری بار ثابت بن قیس کے ہاں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سعد رضی اللہ عنہ کو ثابت کے ہاں بھیجا اور کہا کہ اسے کہہ دو کہ: تم اہل دوزخ سے نہیں بلکہ اہل جنت سے ہو۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
یہ ثابت بن قیسؓ خطیب انصار تھے۔ جب مسیلمہ کذاب مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت سمجھوتہ کرنے کی غرض سے آیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی ثابت بن قیس کو اس سے گفتگو کے لئے مامور فرمایا تھا۔ ان کی آواز قدرتی طور پر بھاری اور بلند تھی۔ اس لئے آپ اس حکم سے ڈر گئے۔ آپ نے انہیں اس لئے اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا کہ وہ بے ادبی یا عدم احترام کی وجہ سے آواز بلند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ قدرتی طور پر ہی ان کی آواز بلند تھی۔