ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفتح (48) — آیت 9

لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۹﴾
تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس کی تسبیح کرو۔ En
تاکہ (مسلمانو) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو
En
تاکہ (اے مسلمانو)، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح وشام En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو [9] اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو۔
[9] اس آیت میں ﴿تُسَبِّحُوْهُ میں ﴿ه﴾ کی ضمیر کا مرجع تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہی ہو سکتا ہے۔ رہیں ﴿تُعَزِّرُوْهُ اور ﴿َتُوَقِّرُوْهُ میں ﴿ه﴾ کی ضمیریں تو ان کا مرجع بھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہونا چاہئے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بالکل ساتھ ساتھ ہیں اور پہلی دو ضمیروں کا مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہونے کے لئے کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے۔ اور مطلب یہ ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد اور مبشر اور نذیر بنا کر اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ کے دین کی بھرپور مدد کرو۔ اور اللہ کے احکام اور اس کی حرمت والی چیزوں کا پورا ادب اور تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح و تحمید بیان کرو۔ تاہم بعض علماء نے ﴿تُعَزِّرُوْه اور ﴿وَتُؤَقِّرُوْه میں ضمائر کا مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو قرار دیا ہے اس صورت میں بھی کوئی اشکال نہیں کیونکہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں آپ کی غیر مشروط اطاعت، ہر حال میں مدد اور آپ کا ادب و احترام کا حکم صراحت سے مذکور ہے۔